وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت ارنڈی کی بڑے پیمانے پر کاشت کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ملک میں فصلوں کی تنوع، برآمدات میں اضافہ اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری لائی جا سکے۔
انہوں نے یہ بات بدھ کے روز انٹرنیشنل ملٹی گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین امجد راشد کی سربراہی میں وفد سے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ارنڈی ایک ایسی فصل ہے جو کم وسائل میں زیادہ پیداوار دیتی ہے اور یہ پاکستان کے بنجر اور نیم بنجر علاقوں کے لیے نہایت موزوں ہے۔
رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ ”ارنڈی کو اُن زمینوں پر بھی اگایا جا سکتا ہے جہاں روایتی فصلیں بہتر نشوونما نہیں پاتیں، اس لیے یہ زمین کے بہتر استعمال اور کسانوں کے لیے آمدنی کے مواقع پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔“
انہوں نے مزید بتایا کہ ارنڈی فی الوقت مقامی منڈی میں 40 کلوگرام کے 7,000 روپے تک فروخت ہو رہی ہے، جو کہ زیادہ تر روایتی فصلوں سے کہیں زیادہ منافع بخش ہے۔
پاکستان میں ارنڈی کی بڑے پیمانے پر کاشت کے مجوزہ منصوبے کے تحت، چین کے ایک غیر منافع بخش شراکت دار ادارے نے اعلیٰ معیار کے ہائبرڈ بیج فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جس سے پیداوار فی ایکڑ 50 من سے بڑھ کر 100 من تک ہونے کی توقع ہے۔
دورہ کرنے والی کمپنی نے مقامی کسانوں کے ساتھ باضابطہ معاہدے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کے تحت وہ تیار شدہ فصل کو پہلے سے طے شدہ شرائط پر خریدنے کی پابند ہوگی۔
وفاقی وزارت قومی تحفظ خوراک و تحقیق اس اقدام کی صوبائی زرعی محکموں کے تعاون سے آگاہی مہمات اور بیج کی تقسیم کے ذریعے بھرپور معاونت کرے گی۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان عالمی منڈی میں ارنڈی کے تیل کا ایک موثر اور مسابقتی سپلائر بن سکتا ہے، جس کی طلب دواسازی، کاسمیٹکس، لبریکنٹس اور بائیوفیول کے شعبوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پائلٹ منصوبے شروع کیے جائیں گے، کسانوں کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی اور ملک میں ایک پائیدار، برآمدی بنیاد پر مبنی ارنڈی ویلیو چین تیار کی جائے گی۔