انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کے روز پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں کئی روزہ مثبت رجحان کے بعد 0.04 فیصد کم ہو گئی ہے۔

کاروباری دن کے اختتام پر امریکی ڈالر کے مقابلے روپیہ 282.67 روپے پر بند ہوا، یعنی اس کی قیمت میں 10 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

یاد رہے کہ منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے روپیہ 9 پیسے کی بہتری سے 282.57 روپے پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر بدھ کو امریکی ڈالر کی قدر محدود دائرے میں رہی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیڈرل ریزرو کے بورڈ آف گورنرز کی آئندہ خالی نشست کے لیے نامزدگی کے اعلان سے قبل محتاط رویہ اختیار کیے رکھا ہے۔

ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ وہ ہفتے کے اختتام تک امیدوار کے نام کا فیصلہ کریں گے اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے ممکنہ متبادل افراد کی فہرست کو مختصر کرتے ہوئے صرف چار ناموں تک محدود کردیا ہے۔

اسی روز جاری ہونے والے اعدادوشمار سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ جولائی میں امریکی سروسز سیکٹر کی سرگرمی توقعات کے برخلاف جمود کا شکار رہی، حالانکہ لاگتِ پیداوار میں تقریباً تین سال کے دوران سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ صورتحال ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف (محصولات) کے معیشت پر پڑنے والے اثرات کو اجاگر کرتی ہے، جو اب کارپوریٹ آمدنی کو بھی متاثر کرنے لگی ہے۔

اس کے باوجود ان عوامل کا ڈالر پر زیادہ اثر نہیں پڑا، کیونکہ تاجر فیڈ بورڈ کی خالی نشست پر ممکنہ تقرری کی خبروں سے قبل نئی پوزیشنز لینے سے گریزاں رہے۔ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ سیاسی وفاداریاں مرکزی بینک کی روایتی غیرجانبدار پالیسی سازی کے ماحول میں مداخلت کرسکتی ہیں۔

ڈالر کی قیمت آخری اطلاعات تک 147.54 ین پر تقریباً مستحکم رہی جبکہ یورو 0.02 فیصد کے معمولی اضافے کے ساتھ 1.5760 ڈالر پر پہنچ گیا۔ برطانوی پاؤنڈ کی قیمت آخری بار 1.3304 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کا انڈیکس آخری اطلاعات تک 98.76 پر رہا، جو اب بھی اُس کی حالیہ بلند ترین سطح 100.25 سے کچھ نیچے ہے جو جمعہ کو نان فارم پے رولز کے اعداد و شمار سے قبل دیکھی گئی تھی۔

تاجروں کی جانب سے ستمبر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کے امکانات 90 فیصد سے زائد برقرار رکھے جا رہے ہیں، جبکہ رواں سال کے اختتام تک تقریباً 58 بیسس پوائنٹس کی نرمی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کی برابری کا ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں، بدھ کے روز بڑھ گئیں، اور منگل کو پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد بحالی دکھائی ہے۔ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی روسی خام تیل کی خریداری پر محصولات لگانے کی دھمکی دی، جس سے سپلائی میں خلل کے خدشات پیدا ہوئے۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 29 سینٹس (0.4 فیصد) اضافے کے ساتھ 67.93 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 28 سینٹس (0.4 فیصد) اضافے کے ساتھ 65.44 ڈالر فی بیرل پر رہا۔

منگل کے روز دونوں بینچ مارک کنٹریکٹس میں ایک ڈالر سے زائد کی کمی دیکھی گئی تھی، جس کے بعد وہ پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح پر بند ہوئے۔ یہ کمی اوپیک پلس کی جانب سے ستمبر میں پیداوار میں اضافے کے منصوبے کے نتیجے میں رسد بڑھنے کے خدشات کے تحت آئی، اور یہ مسلسل چوتھے روز گراوٹ کا رجحان تھا۔