پاکستان

شبلی فراز، عمر ایوب، زرتاج گل سمیت متعدد پی ٹی آئی ارکانِ پارلیمنٹ نااہل قرار

  • نااہل قرار دیے گئے ارکان اسمبلی و سینیٹر کی نشستیں اب خالی ہو چکی ہیں، الیکشن کمیشن پاکستان
شائع August 5, 2025 اپ ڈیٹ August 5, 2025 06:48pm

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے منگل کے روز پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے نو قانون سازوں کو، جن میں سینیٹر شبلی فراز، عمر ایوب، صاحبزادہ حامد رضا اور زرتاج گل شامل ہیں، انسدادِ دہشتگردی عدالت فیصل آباد سے 9 مئی کے واقعات میں سزا یافتہ ہونے کے بعد نااہل اور ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ چونکہ ان ارکان کو انسدادِ دہشتگردی عدالت نے سزا سنائی ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 63(1)(h) کے تحت انہیں نااہل قرار دیا جاتا ہے اور ان کی اسمبلی کی نشستیں اب خالی تصور کی جائیں گی۔

نااہل قرار دیے گئے ارکان میں شبلی فراز (سینیٹر)، عمر ایوب خان (رکن قومی اسمبلی، حلقہ NA-18 ہری پور)، رائے حیدر علی خان (رکن قومی اسمبلی، NA-96 فیصل آباد-II)، صاحبزادہ محمد حامد رضا (رکن قومی اسمبلی، NA-104 فیصل آباد-X)، رائے حسن نواز خان (رکن قومی اسمبلی، NA-143 ساہیوال-III)، زرتاج گل (رکن قومی اسمبلی، NA-185 ڈیرہ غازی خان-II)، محمد انصر اقبال (رکن پنجاب اسمبلی، PP-73 سرگودھا-III)، جنید افضل ساہی (رکن پنجاب اسمبلی، PP-98 فیصل آباد-I) اور رائے محمد مرتضیٰ اقبال (رکن پنجاب اسمبلی، PP-203 ساہیوال-VI) شامل ہیں۔

فیصل آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے 31 جولائی کو پی ٹی آئی کے 100 سے زائد رہنماؤں اور کارکنان کو 9 مئی 2023 کو عسکری تنصیبات پر حملوں کے الزامات میں مختلف مدت کی سزائیں سنائی تھیں۔ عدالتی حکم نامے کے مطابق 58 افراد کو 10 سال قید کی سزا دی گئی جبکہ باقی کو ایک سے تین سال کے درمیان سزائیں سنائی گئیں۔

31 جولائی کو فیصل آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جماعت، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 100 سے زائد ارکان کو 2023 کے ان فسادات میں ملوث ہونے پر قید کی سزائیں سنائیں، جن میں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ تفصیلات رائٹرز کو موصول عدالتی حکم نامے میں سامنے آئیں۔

عدالت کے مطابق 58 ملزمان، جن میں ارکانِ پارلیمنٹ اور اعلیٰ پارٹی عہدیداران شامل تھے، کو 10 سال قید کی سزا دی گئی، جبکہ باقی افراد کو ایک سے تین سال کے درمیان سزائیں سنائی گئیں۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق جن افراد کو سزائیں سنائی گئیں ان میں عمر ایوب اور شبلی فراز بھی شامل ہیں، جو بالترتیب قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تحریکِ انصاف کے پارلیمانی قائدین کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ استغاثہ نے ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کر دیا ہے۔

سابق وزیر اعظم عمران خان جو 2023 سے جیل میں ہیں اور جن پر بدعنوانی، زمینوں کے فراڈ اور خفیہ سرکاری معلومات افشا کرنے جیسے الزامات کے تحت الگ الگ مقدمات چل رہے ہیں، انہیں انہی فسادات سے متعلق ایک علیحدہ مقدمے میں بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ ان پر ابھی گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں اور یہ کیس زیرِ سماعت ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے 9 مئی 2023 کے احتجاج کو ہوا دی، جس کے نتیجے میں مظاہرین نے راولپنڈی میں جی ایچ کیو سمیت فوجی اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے۔

عمران خان نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی انتقام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا مقصد تحریکِ انصاف کو توڑنا اور سیاسی میدان سے ختم کر دینا ہے۔

یاد رہے کہ ان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

فیصل آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت کا یہ فیصلہ، جس میں ایک ہی مقدمے میں متعدد افراد کو سزائیں سنائی گئیں، گزشتہ ایک ماہ کے دوران تیسرا اجتماعی سزا والا فیصلہ ہے۔ پی ٹی آئی نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔