پاکستان

پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج، جڑواں شہروں میں دفعہ 144 کے باوجود ریلیاں

ریحانہ ڈار سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا، پی ٹی آئی
شائع August 5, 2025 اپ ڈیٹ August 5, 2025 02:44pm

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، جب کہ جڑواں شہروں میں دفعہ 144 نافذ ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سیاسی عوامی اجتماعات کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے جڑواں شہروں میں عوامی اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

پی ٹی آئی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں بتایا ہے کہ پارٹی کے متعدد کارکنان، جن میں پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ ڈار بھی شامل ہیں، کو مختلف شہروں سے گرفتار کیا گیا ہے تاکہ ریلیوں کے انعقاد کو روکا جا سکے۔ پی ٹی آئی سابق وزیراعظم اور پارٹی کے بانی عمران خان کی قید کے دو سال مکمل ہونے پر پرامن احتجاج کر رہی ہے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

۔

ایک روز قبل، پی ٹی آئی پنجاب نے 12 صفحات پر مشتمل وائٹ پیپر جاری کیا جس کا عنوان تھا:”سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری: سیاسی انتقام اور انسانی حقوق کی پامالیاں (اگست 2023 تا اگست 2025)“

۔

پی ٹی آئی پنجاب کے میڈیا سیل کے سربراہ شایان بشیر نے سینئر رہنما بیرسٹر علی ظفر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے عمران خان کی گرفتاری کو دو برس مکمل ہونے پر پرامن احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ”ہم ہمیشہ امن کے حامی رہے ہیں، اور ہمارے بانی عمران خان نے ہمیں پُرامن رہنے کی تلقین کی ہے۔ اگر عمران خان کے اہلخانہ کو اُن سے ملاقات کی اجازت نہ ملی تو ہم اڈیالہ جیل کے باہر بڑا احتجاج کریں گے اور 5 اگست کے بعد روزانہ احتجاج کیا جائے گا۔“

انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر پی ٹی آئی کو مکمل ختم کرنا چاہتے ہیں، مگر یہ ممکن نہیں۔ گزشتہ چار دنوں میں، اُن کے بقول، پی ٹی آئی کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور ان کی پرائیویسی پامال کی گئی۔

انہوں نے الزام لگایا کہصرف لاہور میں گزشتہ دو روز کے دوران 200 سے زائد چھاپے مارے گئے، لوگوں کو گرفتار کیا گیا، رشوت مانگی گئی، اور کچھ سے حلف نامے پر دستخط کرائے گئے۔

۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے خلاف تمام مقدمات جھوٹے الزامات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے اُن سے گفتگو میں قانون کی بالادستی اور عدلیہ سے انصاف کی امید کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت عمران خان کو دس بائی دس فٹ کے ایک کمرے میں قید رکھا گیا ہے اور اُنہیں اہل خانہ سے آزادانہ ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، حتیٰ کہ وکلاء تک کو حالیہ دنوں میں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ اُن کی اہلیہ پر بھی مقدمات قائم کر کے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے وائٹ پیپر میں سیاسی انتقام، عدالتی عمل میں مداخلت، انتخابی دھاندلی، اور ریاستی جبر کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اگست 2023 سے اب تک عمران خان کے خلاف 186 سے زائد سیاسی بنیادوں پر ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ توشہ خانہ ریفرنس، سائفر کیس اور القادر ٹرسٹ کیس جیسے مقدمات میں سزائیں بند کمرہ سماعت کے ذریعے سنائی گئیں، جو آئین کے آرٹیکل 10-A اور 14 کی صریح خلاف ورزی تھیں۔

وائٹ پیپر میں کئی مطالبات شامل ہیں، جن میں عمران خان، بشریٰ بی بی اور تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی، تمام سیاسی فیصلوں کو واپس لینا اور غیر جانبدار بینچوں اور بین الاقوامی مبصرین کی نگرانی میں شفاف ازسرنو ٹرائل کا آغاز شامل ہیں۔

مزید مطالبات میں پولیس تشدد، جبری گمشدگیوں، پُرامن مظاہرین پر حملوں اور دورانِ حراست تشدد کی تحقیقات کے لیے ایک غیر جانب دار عدالتی کمیشن کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔