پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ملک بھر میں 4 سے 7 اگست کے دوران مون سون کے ایک اور شدید بارشوں کے سلسلے کی پیشگوئی کرتے ہوئے شہری سیلاب، آندھی طوفان، اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، ایک طاقتور مون سون سسٹم اتوار کی رات ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہونے کا امکان ہے، جو بدھ تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس دوران معتدل سے شدید بارشیں، تیز ہوائیں اور گرج چمک کے ساتھ طوفان متوقع ہیں۔

اس سسٹم کے زیر اثر اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہیں۔ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ڈی جی خان، راجن پور اور خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی، جب کہ مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کی بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے مزید بتایا ہے کہ 6 اور 7 اگست کو سندھ اور مشرقی بلوچستان کے بعض علاقوں میں بھی کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے معتدل بارش ہو سکتی ہے۔ سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو، ژوب، بارکھان اور سبی میں بارش کا امکان ہے، تاہم جنوبی علاقوں میں بارش کی شدت شمالی علاقوں کے مقابلے میں کم رہے گی۔

نیشنل اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو الرٹ رہنے اور پیشگی حفاظتی اقدامات کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ سیاحوں اور مسافروں کو پہاڑی علاقوں کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، کیونکہ لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش کا خطرہ ہے۔

کاشتکاروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی آبپاشی کا شیڈول موسم کی صورتحال کے مطابق ترتیب دیں۔

یہ پیشگوئی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ بارشوں کے ایک سلسلے نے کئی شہروں میں معمولات زندگی کو متاثر کیا، جس کے باعث پانی جمع ہونے، بجلی کی بندش، اور ٹریفک جام کے مسائل سامنے آئے۔ بعض علاقوں میں انفرا اسٹرکچر کو نقصان اور جانی نقصان کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں۔

محکمہ موسمیات نے مزید کہا ہے کہ وسط اگست میں بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مزید مون سون ہوائیں پاکستان میں داخل ہوں گی، اور پورے ماہ معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے۔