ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کی جانب سے کمرشل بینکوں سے حاصل کیے گئے قرضوں پر بلند شرحِ سود پر وزارتِ خزانہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ذرائع کے مطابق، اس معاملے کی جانچ کے لیے ایک خصوصی آڈٹ کروانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ٹی سی پی نے کن شرائط پر قرض لیا اور آیا اس وقت مزید مسابقتی شرائط دستیاب تھیں یا نہیں۔
ٹی سی پی کے مطابق، کل واجبات 156.9 ارب روپے میں سے 126 ارب روپے یوریا کی خریداری سے متعلق ہیں جبکہ باقی گندم سے متعلق ہیں۔ اگرچہ اصل رقم کو ملانے (ری کنسائل) میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم شرحِ سود کے حساب اور منافع کے اضافی بوجھ پر تاحال اختلافات موجود ہیں۔
قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی کے اجلاس میں وزارتِ خزانہ کے حکام نے آگاہ کیا کہ ٹی سی پی کے واجبات کی ادائیگی کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو 24 ارب روپے درکار ہیں۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن نے 6 ارب روپے ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ باقی 18 ارب روپے حکومت سبسڈی کے طور پر ادا کرے گی۔
کل 24 ارب روپے میں سے 5 ارب روپے رواں مالی سال میں دستیاب ہیں جبکہ باقی 15 ارب روپے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں تجویز کیے گئے ہیں۔ اس انتظام کے تحت یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اپنی مجموعی ذمہ داری 93 ارب روپے میں سے 24 ارب روپے کی ادائیگی مکمل کرے گا۔
وزارت خزانہ کے مطابق، نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ لمیٹڈ (این ایف ایم ایل) پرٹی سی پی کے 53 ارب روپے واجب الادا ہیں، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان 50:50 کی بنیاد پر ادا کیے جائیں گے۔ وفاقی حصہ 26 ارب روپے ہے، جس میں سے 10 ارب روپے رواں مالی سال کے لیے دستیاب ہیں، تاہم وزارتِ تجارت نے اب تک اس حوالے سے ضروری سمری ارسال نہیں کی، جس کی عدم موجودگی کی تصدیق وزارتِ خزانہ نے بھی کی ہے۔ باقی 15 ارب روپے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تجویز کیے گئے ہیں۔
وزارت خزانہ کے حکام نے زور دیا کہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مکمل مفاہمت( ری کنسائل) سے قبل کوئی ادائیگی یا ایڈجسٹمنٹ ممکن نہیں۔ وزارتِ خزانہ کا کہنا تھا کہ وہ صرف اس صورت میں ادائیگی آگے بڑھا سکتی ہے جب وفاقی ایڈجسٹر سے مفاہمتی( ری کنسائل) ڈیٹا موصول ہو، اور وفاقی و صوبائی اداروں کو اس عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ٹی سی پی نے وضاحت کی کہ 2018 سے قبل مفاہمتی عمل باقاعدہ طریقے سے نہیں ہوتا تھا، تاہم اس کے بعد سے این ایف ایم ایل کے ساتھ تمام معاہدے دستاویزی صورت میں موجود ہیں۔ یوریا کی خریداری وفاقی حکومت کی جانب سے ٹی سی پی کے ذریعے کی جاتی ہے جبکہ اس کی تقسیم وزارتِ صنعت اور این ایف ایم ایل، صوبائی حکومتوں کی مدد سے کرتے ہیں۔ وزارتِ صنعت کو وزارتِ خزانہ سے بجٹ منظوری لے کر واجبات ادا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ان تاخیرات کی وجہ سے شرحِ سود مسلسل بڑھتی رہی۔ ٹی سی پی کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے لیے اصل واجبات 24 ارب روپے ہیں جبکہ سود کی مد میں مزید 2.9 ارب روپے کا اتفاق ہو چکا ہے، یوں کل رقم 26.8 ارب روپے بنتی ہے۔
قومی اسمبلی کی کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سود کی رقم پر کوئی حد مقرر نہیں کی گئی، حالانکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سود کی ادائیگی کے لیے کوئی واضح گنجائش فراہم نہیں کی تھی۔ ٹی سی پی نے وضاحت دی کہ ای سی سی کی منظور کردہ سمریاں کیش اور کریڈٹ دونوں اقسام کی ادائیگی کے لیے تھیں، جو اسٹیٹ بینک کے ذریعے مکمل ہوئیں، اور تمام متعلقہ ادارے اس بات سے آگاہ تھے کہ اس پر سود لاگو ہو گا۔ ٹی سی پی نے مزید کہا کہ سود کی یہ رقم قرضوں کی قسطوں میں فراہمی کے باعث پیدا ہوئی، کسی بدانتظامی کی وجہ سے نہیں۔
کمیٹی نے ٹی سی پی کو ہدایت کی کہ وہ ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرے جس میں تاخیر کی وجوہات کو واضح کیا جائے، کہ آیا یہ سبسڈی کی ادائیگی میں تاخیر تھی یا معاہدوں میں کوئی خامی تھی۔ ٹی سی پی نے وضاحت کی کہ کمرشل بینکوں کے ساتھ ان کے معاہدوں میں سود کی شرح پر دوبارہ بات چیت کی اجازت نہیں ہوتی، اس لیے سود کی حد مقرر کرنا ممکن نہیں تھا۔
وزارتِ خزانہ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس وقت ملک کو آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی پروگرام کے تحت مالی دباؤ کا سامنا ہے، تاہم یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اور این ایف ایم ایل کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بالترتیب 15، 15 ارب روپے یعنی مجموعی طور پر 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 15 ارب روپے کی رقم ٹی سی پی کو پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی سی پی نے وزارتِ خزانہ کی جانب سے خصوصی آڈٹ کے مطالبے کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، مگر قومی اسمبلی کی کمیٹی نے یہ مؤقف مسترد کر دیا اور ٹی سی پی کو ہدایت کی کہ وہ یہ معاملہ براہِ راست وزارتِ خزانہ سے حل کرے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025