کاروبار اور معیشت

پاکستان اسٹیل ملز کا مجموعی خسارہ 600 ارب روپے ہوگیا، سالانہ سود ادائیگی 20 ارب، چیئرمین

پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کے چیئرمین اسد اسلام مہنی نے بتایا ہے کہ ادارے کا مجموعی خسارہ 2024 تک 600 ارب روپے...
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کے چیئرمین اسد اسلام ماہنی نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ ادارے کا مجموعی مالی خسارہ 2024 تک 600 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ صرف سود کی مد میں سالانہ 20 ارب روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔

یہ انکشاف انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کو کراچی میں اسٹیل مل کے دورے کے موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے کیا ہے۔ کمیٹی کی صدارت سینیٹر عون عباس کر رہے تھے۔ کمیٹی نے پی ایس ایم کو درپیش مالی مسائل، واجبات، تاخیر شدہ ادائیگیوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا جائزہ لیا، جب کہ ملازمین کی یونینز کے تحفظات بھی سنے۔

کمیٹی میں سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر خالدہ عتیب اور سینیٹر حسنیٰ بانو بھی شامل تھیں۔

بریفنگ کے دوران چیئرمین نے مزید بتایا کہ پی ایس ایم پر نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے 89 ارب روپے کے واجبات ہیں، جن میں سے زیادہ تر قرضہ ادارے کے جاری اخراجات بشمول 934 موجودہ ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں لیا گیا ہے۔

مزید برآں پی ایس ایم حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ حکومت دو متوازی منصوبوں پر غور کر رہی ہے: ایک تجویز کے مطابق روسی کمپنی ”رشین انڈسٹریل انجینئرنگ ایل ایل سی“ کے ذریعے اسٹیل مل کی بحالی کا امکان زیر غور ہے، جو آرچ فرنس اور بلاسٹ فرنس ٹیکنالوجی استعمال کرے گی؛ جب کہ دوسرا منصوبہ اسٹیل مل کی مکمل لیکویڈیشن (تنظیمی تحلیل) سے متعلق ہے، جس کے لیے پہلے ایک ایویلیوایشن فرم (قیمت کا تخمینہ لگانے والی فرم) کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے اپنے دورے کے دوران پاکستان اسٹیل ملز کی مزدور یونین کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے برطرف اور موجودہ ملازمین کو درپیش مشکلات سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔

کمیٹی نے ملازمین کے تحفظات کا جائزہ لینے اور انتظامیہ سے ان کے مسائل پر بات چیت کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔

قائمہ کمیٹی نے موجودہ انتظامیہ کی اخراجات میں کمی کی کوششوں کو سراہا، تاہم اسٹیل ملز میں مسلسل چوریوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ چوری سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے متروک اور ناکارہ اثاثہ جات، جو اب کارآمد نہیں رہے، کی جلد از جلد فروخت کا عمل بھی تیز کرنے کی سفارش کی گئی۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ چند برسوں میں سندھ حکومت کی جانب سے پی ایس ایم کی زمین کی من مانی الاٹمنٹ کی گئی، جس پر کمیٹی نے 1370 ایکڑ اور 400 ایکڑ متنازع و غیرمتنازع زمینوں کی گوٹھوں کو الاٹمنٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ ایسے تمام معاملات کو مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے سپرد کیا جائے۔

دورے کے اختتام پر کمیٹی نے پی ایس ایم کے مختلف پلانٹس کا جائزہ لیا اور حکومت کو سفارش کی ہے کہ اسٹیل ملز کے مستقبل سے متعلق فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کیا جائے۔