پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم نے پاکستان آنے کے لیے ویزوں کی درخواست دے دی ہے، تاہم اب بھی وہ وزارتِ داخلہ کی منظوری کے منتظر ہیں۔ یہ بات عمران خان کی بہن علیمہ خان نے جمعے کے روز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہی ہے۔
انہوں نے لکھا ہے کہ ”چند روز قبل سلیمان اور قاسم نے لندن میں پاکستان ہائی کمیشن میں ویزے کے لیے درخواست دی ہے۔ سفیر نے آگاہ کیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں وزارتِ داخلہ سے منظوری کے منتظر ہیں۔“
گزشتہ ہفتے ایک بیان میں علیمہ خان نے کہا تھا کہ قاسم اور سلیمان کے پاس اوورسیز پاکستانیوں کے قومی شناختی کارڈ (این آئی سی او پیز) موجود ہیں، اور توقع ہے کہ وہ جلد اپنے قید والد عمران خان سے ملاقات کے لیے پاکستان آئیں گے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ عمران کے دونوں بیٹے سلیمان اور قاسم کے پاس درست سفری دستاویزات اور این آئی سی او پیز موجود ہیں، اور وہ جلد اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان آئیں گے۔
تاہم علیمہ خان نے کسی مخصوص تاریخ کا انکشاف نہیں کیا اور اشارہ دیا ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث ان کی آمد کا شیڈول اب بھی غیر حتمی ہے۔
اس دوران بعض حکومتی وزراء نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کو ویزہ جاری نہ ہونے کا امکان ہے، جس سے ان کی پاکستان آمد میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔
علیمہ خان نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک سیاسی چال قرار دیا۔ ان کے بقول یہ صرف سیاسی ہراسانی ہے اور ایک پاکستانی شہری کے حقوق کی صریح خلاف ورزی۔ حکومت عمران خان کے بیٹوں کی آمد سے خائف ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے عوامی حمایت میں اضافہ ہوگا اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ مزید شدت اختیار کر جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ میرے بھائی کو تنہا کرنا چاہتے ہیں، اس کا حوصلہ توڑنا چاہتے ہیں اور عوام کو اس کی حالت سے بے خبر رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
علیمہ خان نے انکشاف کیا کہ ان کی بہنیں نورین خان اور عظمیٰ خان کو ایک بار پھر عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے اڈیالہ جیل میں ایک وقت میں چھ افراد کو ملاقات کی اجازت تھی، لیکن اب اسے صرف دو افراد تک محدود کر دیا گیا ہے۔