امریکی ٹیرف میں کمی پر سرمایہ کار خوش،100 انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
- 100 انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 141,000 سے زائد پوائنٹس پر بند ہوا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو سرمایہ کاروں نے امریکہ کی جانب سے پاکستان پر عائد باہمی ٹیرف میں کمی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 141,000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے اوپر بند ہوا۔
ہفتے کے آخری سیشن میں مارکیٹ میں تیزی کا راج رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران بلند ترین سطح 141,160.93 پوائنٹس تک پہنچا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,644.56 پوائنٹس (1.18 فیصد) کے اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار 141,034.99 پوائنٹس پر بند ہوا ۔
بروکریج ہاؤس ٹوپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق “مارکیٹ میں یہ مثبت رویہ اس خبر کی بدولت ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ایک ’اہم‘ ٹیرف معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت پاکستان کو اب سابقہ 29 فیصد کے مقابلے میں 19 فیصد کی شرح سے ٹیرف کا سامنا ہوگا۔
پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس کے علاوہ، مارکیٹ میں یہ بھی توقع ہے کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کے لیے بینکوں سے 1.25 کھرب روپے کا قرض حاصل کرے گی، جس سے مارکیٹ کو مزید تقویت ملے گی۔
انڈیکس میں مجموعی طور پر 1,355 پوائنٹس کا مثبت حصہ او جی ڈی سی، پی پی ایل، حبکو اور پی ایس او نے دیا، کیونکہ یہ کمپنیاں سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں۔
بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے نائب سربراہ ٹریڈنگ علی نجيب نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تیل کی تلاش میں ممکنہ تعاون اور آئندہ ہفتے متوقع سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کی خبریں آج توانائی کے شعبے کے اسٹاکس کو بہت ضروری تقویت فراہم کر گئی ہیں۔
اہم شعبوں میں بھرپور خریداری دیکھنے میں آئی جن میں سیمنٹ، کمرشل بینکس، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں شامل تھیں۔ ایم اے آر آئی، او جی ڈی سی، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی اور ایف ایف سی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
ایک اہم پیش رفت کے طور پر امریکی انتظامیہ نے پاکستانی مصنوعات کی ایک وسیع رینج پر 19 فیصد جوابی ٹیرف عائد کیا ہے جو کہ ابتدائی طور پر تجویز کردہ 29 فیصد کی نسبت نمایاں طور پر کم ہے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کردہ ایک وسیع نئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کیا گیا ہے۔
جمعرات کی رات دیر گئے صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت درجنوں ممالک سے امریکہ میں آنے والی درآمدات پر 10 فیصد سے 41 فیصد تک کے محصولات عائد کیے گئے ہیں۔
بھارت کی امریکہ جانے والی برآمدات پر شرح 25 فیصد، تائیوان پر 20 فیصد، تھائی لینڈ پر 19 فیصد اور جنوبی کوریا پر 15 فیصد مقرر کی گئی ہیں۔
انہوں نے کینیڈین مصنوعات پر محصولات 25 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دیے، ان تمام اشیاء پر جو امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے تجارتی معاہدے کے تحت نہیں آتیں۔ تاہم، میکسیکو کو وسیع تر تجارتی معاہدے پر بات چیت کے لیے زیادہ محصولات سے 90 دن کی مہلت دی گئی۔
جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی جب سرمایہ کاروں کے اعتماد نے تجارتی ماحول پر غلبہ پا لیا۔ یہ اچانک اضافہ اُس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن ٹویٹ میں پاکستان کے ساتھ ایک تاریخی تجارتی معاہدے کا اعلان کیا تھا۔
گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 978 پوائنٹس یعنی 0.71 فیصد کا اضافہ ہوا، جس کے بعد انڈیکس 139,390.42 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص میں کمی دیکھنے میں آئی جب امریکہ نے درجنوں تجارتی شراکت داروں پر بھاری محصولات عائد کر دیے۔ اس کے ساتھ ہی سرمایہ کار بے چینی سے امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جو اگلے ماہ فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں ممکنہ کمی کے فیصلے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ایم ایس سی آئی کے جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے سب سے وسیع شیئرز انڈیکس میں 0.7 فیصد کی کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں اس ہفتے کل کمی 1.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 3 فیصد گر گیا جبکہ تائیوانی شیئرز 0.9 فیصد کم ہوئے۔
جاپان کا نکئی انڈیکس 0.4 فیصد نیچے آگیا۔ چینی بڑی کمپنیاں مستحکم رہیں جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس معمولی اضافہ کے ساتھ 0.2 فیصد بڑھا۔
یورو اسٹوکس 50 فیوچرز میں 0.2 فیصد کی کمی ہوئی۔ نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز بھی 0.2 فیصد کم ہوئے، جس کی وجہ ایمیزون کی کمزور کارکردگی ہے، جس کے نتائج توقعات کے مطابق نہ ہونے کے باعث اس کے شیئرز آفٹر آورز میں 6.6 فیصد گر گئے۔
اسی دوران پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی بڑھتی ہوئی رفتار برقرار رکھتے ہوئے جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں 0.05 فیصد مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر امریکی ڈالر کے مقابلے روپیہ 282.72 روپے پر بند ہوا جو 15 پیسے کا اضافہ ہے۔
آل شیئر انڈیکس میں حجم 609.71 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، جو پچھلے بندش کے 577.35 ملین سے بڑھا ہے۔
شیئرز کی مالیت بھی 36.35 ارب روپے سے بڑھ کر 50.55 ارب روپے تک جا پہنچی۔
ورلڈ کال ٹیلیکام حجم کے لحاظ سے سب سے آگے رہی جس کے 55.01 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد پاکستان پیٹرولیم کے 43.04 ملین اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کے 37.04 ملین شیئرز نمایاں رہے۔
جمعہ کو مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 199 کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 246 میں کمی جبکہ 38 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔