نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این جی سی) نے منگل کو کراچی کے قریب کے-2 اور کے-3 ایٹمی بجلی گھروں کو قومی گرڈ سے جوڑنے والی نئی 500 کلو وولٹ کی ٹرانسمیشن لائن کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا ہے، جو جنوبی پاکستان میں بجلی کی ترسیل کی صلاحیت بڑھانے اور گرڈ کو مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

این جی سی کے پیر کو جاری بیان کے مطابق یہ نئی ڈبل سرکٹ، کواڈ بنڈل ٹرانسمیشن لائن 102 کلومیٹر پر محیط ہے، جو کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹس (کینپ) کو 500 کے وی پورٹ قاسم مٹیاری ٹرانسمیشن کوریڈور سے جوڑتی ہے۔

یہ منصوبہ تقریباً 18.45 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے اور اس کا مقصد 2,200 میگاواٹ تک صاف ایٹمی توانائی قومی گرڈ میں شامل کرنا ہے۔

یہ منصوبہ قومی گرڈ کی استعداد، استحکام اور بھروسا بڑھانے کے ساتھ ساتھ حکومت کے توانائی تحفظ کے اہداف میں بھی اہم کردار ادا کرے گا، کیونکہ اس کے ذریعے اضافی ایٹمی توانائی کو ملکی توانائی کے نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔

نیشنل گرڈ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر انجینئر محمد شاہد نذیر نے کہا کہ اس ٹرانسمیشن لائن کا فعال ہونا گرڈ کے بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر جنوبی علاقے، کی مضبوطی میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس میں بہتری سے علاقائی ترقی، روزگار کے مواقع اور معاشی نمو کو بھی فروغ ملے گا۔

این جی سی نے اس منصوبے کی کامیابی کو وزارت توانائی (پاور ڈویژن)، کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور اندرونی محکموں جیسے کہ پروجیکٹ ڈلیوری (ساؤتھ)، ایچ وی ڈی سی، پاور سسٹم پلاننگ، ٹیلی کام، پروٹیکشن اینڈ کنٹرول، اور آئی ایس ایم او کی اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ قرار دیا، جو مختلف چیلنجوں کے باوجود مکمل کیا گیا۔

کے-2 اور کے-3 یونٹس، جو چین کے تعاون سے تیار کیے گئے ہیں، پاکستان کے ایٹمی توانائی کے بڑھتے ہوئے شعبے کا حصہ ہیں اور ملک کے لیے صاف توانائی کے حصول کی منتقلی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔