خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے پیر کے روز کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور تیراہ واقعے کے حوالے سے متعلقہ انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
بیرسٹر سیف نے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ خود اس واقعے کی نگرانی کر رہے ہیں اور پشاور میں قبائلی عمائدین کا ایک جرگہ بھی بلایا ہے جس میں ان کی رائے لی جائے گی۔
یاد رہے کہ اتوار کو تیراہ کے علاقے زخہ خیل میں ایک بچی کے قتل کے خلاف باغ میدان مرکز میں ہونے والے احتجاجی دھرنے کے دوران فائرنگ کی زد میں آکر کم از کم 7 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اس واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ یہ قتل عام خیبر پختونخوا کے تیراہ وادی میں باغ میدان علاقے میں تحریک طالبان پاکستان (خوارج) کی فائرنگ کی وجہ سے ہوا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایک بیان میں تیراہ واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔
وزیرِ اعظم نے خوارج (تحریک طالبان پاکستان) کی جانب سے پُرامن شہریوں پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دہشت گردوں اور دہشت گردی کو اُن کے منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔
ادھر خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت تیراہ واقعے پر نہایت افسردہ ہے۔ حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے 25 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور واقعے کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور پشاور میں قبائلی عمائدین کا جرگہ بھی طلب کیا ہے تاکہ اُن کی بات سنی جا سکے۔
بیرسٹر سیف کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے گزشتہ ہفتے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی تھی، تاہم گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی اور اپوزیشن جماعتوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرتے ہوئے کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور اس مشکل وقت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔