بھارتی میڈیا کے مطابق جمعرات کو ایک غیر متوقع فیصلے میں بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے خطے میں کشیدگی کے باوجود ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے اور یہ اجلاس آن لائن شرکت کے ذریعے ہوگا۔

یہ اہم اجلاس آج ڈھاکا میں اے سی سی کے صدر اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سربراہ محسن نقوی کی صدارت میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں ایشیا کپ 2025 کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

۔

بھارت اس ٹورنامنٹ کا باضابطہ میزبان ہے، جو آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 سے قبل ٹی 20 فارمیٹ میں منعقد ہونے کی توقع ہے۔

ابتدائی طور پر بی سی سی آئی نے بنگلہ دیش کے ساتھ کشیدہ سفارتی تعلقات کی وجہ سے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم ہندوستان ٹائمز کے مطابق بورڈ نے اپنے فیصلے پر نظرِثانی کرتے ہوئے آن لائن شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ اجلاس بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی، بالخصوص مئی میں ہونے والی فوجی جھڑپوں کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔ دونوں بورڈز نے ایک دوسرے کی سرزمین پر کھیلنے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے، جیسا کہ پچھلے سال کے آئی سی سی ایونٹس میں دیکھا گیا، جو ہائبرڈ ماڈل کے تحت کھیلے گئے تھے۔

سیاسی حساسیت کے پیشِ نظر امکان ہے کہ متحدہ عرب امارات 2025 کے ایشیا کپ کے لیے ممکنہ غیر جانبدار مقام بنے، باوجود اس کے کہ بھارت میزبان کی حیثیت برقرار رکھے گا۔

سری لنکا کرکٹ اور افغانستان کرکٹ بورڈ، جنہوں نے پہلے بی سی سی آئی کے ساتھ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اب بھارت کی پالیسی میں تبدیلی کے بعد آن لائن شامل ہونے کی توقع ہے۔

اجلاس پاکستانی وقت کے مطابق ایک بجے ڈھاکا کے ایک ہوٹل میں جاری ہے، اور میڈیا رپورٹس کے مطابق 25 میں سے 24 اراکین کی شرکت سے کوارم تقریباً مکمل ہے۔

۔

محسن نقوی بدھ کے روز ڈھاکا پہنچے، جہاں ان کا استقبال بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے سربراہ محمد امین الحق نے کیا۔