اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2025-26 کے لیے مانیٹری پالیسی اجلاسوں کا مکمل کیلنڈر جاری کر دیا، ہر ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ شائع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے منگل کے روز مالی سال 2025-26 کے لیے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاسوں کا پیشگی اور مکمل کیلنڈر جاری کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسٹیٹ بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب ہر چھ ماہ بعد مانیٹری پالیسی رپورٹ (ایم پی آر) بھی جاری کرے گا، جو ویژن 2028 کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

مانیٹری پالیسی رپورٹس (ایم پی آرز) ہر سال جولائی اور جنوری کی ایم پی سی اجلاس کے دو ہفتوں کے اندر شائع کی جائیں گی۔ ان رپورٹس میں اہم معاشی اشاریوں (جیسے مہنگائی، شرح نمو، مالیاتی پالیسی رجحانات) سے متعلق تازہ پیش گوئیاں شامل ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد مالیاتی پالیسی سے متعلق معلومات کی فراہمی بہتر بنانا اور مہنگائی کی توقعات کو مستحکم رکھنا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مہنگائی کے ہدفی نظام ( آئی ٹی آر) کی طرف منتقلی میں مدد دینا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مکمل سالانہ کیلنڈر جاری کرنے کا فیصلہ ادارہ جاتی شفافیت بڑھانے اور مالیاتی پالیسی سازی میں پیشگی منصوبہ بندی اور پیش بینی کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

مالی سال 2025-26 کے لیے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاسوں کی مقررہ تاریخیں درج ذیل ہیں:

  • بدھ، 30 جولائی 2025

  • پیر، 15 ستمبر 2025

  • پیر، 27 اکتوبر 2025

  • پیر، 15 دسمبر 2025

  • پیر، 26 جنوری 2026

  • پیر، 9 مارچ 2026

  • پیر، 27 اپریل 2026

  • پیر، 15 جون 2026

اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی ہے کہ اگر کسی غیر متوقع صورتحال کے باعث ان تاریخوں میں کوئی تبدیلی درکار ہوئی تو اس کی بر وقت اطلاع دے دی جائے گی۔ بینک نے یہ بھی بتایا کہ اگلا پیشگی کیلنڈر جولائی 2026 میں جاری کیا جائے گا۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کیا کرتی ہے؟

مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) ملک میں مالیاتی پالیسی کے تعین کی مکمل ذمہ دار اور بااختیار ادارہ ہے۔ اس کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ معیشت کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے شرحِ سود اور دیگر مالیاتی اقدامات سے متعلق فیصلے کرے۔

اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956 کی دفعہ 9E کے تحت، کمیٹی کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ مالیاتی پالیسی تشکیل دے۔ اس میں درمیانی مالیاتی اہداف، پالیسی ریٹ (شرحِ سود) اور پاکستان میں ریزرو کی فراہمی سے متعلق فیصلے شامل ہیں، جن کا مقصد معیشت میں استحکام لانا اور افراطِ زر کو قابو میں رکھنا ہے۔

کمیٹی ان پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے ضوابط بھی مرتب کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہی کمیٹی مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ اور دیگر مالیاتی اقدامات کی منظوری دیتی ہے اور ان کا باضابطہ اعلان کرتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، کمیٹی وہ تمام ذمہ داریاں بھی ادا کرتی ہے جو قانون کے تحت اسے تفویض کی گئی ہوں، اور ان سے منسلک تمام ضمنی سرگرمیوں کو بھی سرانجام دیتی ہے جو اس کے فرائض کی مؤثر انجام دہی کے لیے ضروری ہوں۔