بارشوں کے پیش نظر شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے متوقع مون سون بارشوں کے پیش نظر ملک کے شمالی حصوں کے لیے لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کردیا ۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی مختلف وادیوں میں کہیں کہیں بارش متوقع ہے، جن میں گلگت، اسکردو، ہنزہ، استور، دیامر، گانچھے، مظفرآباد، وادی نیلم، حویلی، باغ اور پونچھ شامل ہیں۔
مزید برآں، این ڈی ایم اے نے ایک ہینڈ آؤٹ میں کہا ہے کہ بالائی خیبر پختونخوا میں، خصوصاً چترال، دیر، کوہستان اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں وسیع پیمانے پر شدید بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
مون سون بارشوں کی وجہ سے کئی پُر خطر مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ، بڑے پتھر گرنے اور زمین دھنسنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
خطرے سے دوچار مقامات میں کولائی پالس (روڈ 180)، لوئر کوہستان (روڈ 200)، اپر کوہستان (روڈ 240)، ٹاٹہ پانی (روڈ 360)، جگلوٹ (روڈ 480)، نگر (روڈ 460–480)، ہنزہ (روڈ 520–540)، روندو اور اسکردو (جے ایس آر پر)، نیز چترال کے مختلف مقامات شامل ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز)، ریسکیو سروسز، مقامی انتظامیہ، مسلح افواج، این جی اوز اور سول سوسائٹی تنظیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حساس علاقوں میں امدادی عملے، مشینری اور ہنگامی آلات کی موجودگی اور تیاری کو یقینی بنائیں۔
علاقوں میں سفر کرنے والوں اور رہائشیوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔
مقامی حکام اور ریسکیو اہلکاروں کے مطابق خیبر پختونخوا (کے پی) اور گلگت بلتستان (جی بی) کے شمالی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث مختلف حادثات جن میں سیلابی ریلے اور چھتیں گرنے کے واقعات شامل ہیں میں کم از کم 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔
حکام کے مطابق دوپہر تقریباً 3:30 بجے بابوسر روڈ پر جال اور دیونگ کے درمیان 7 سے 8 کلومیٹر کے علاقے میں کلاوڈ برسٹ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں زمین کھسکنے، چٹانیں گرنے اور ملبے کے ڈھیر لگنے سے 14 سے 15 بڑے رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ اس واقعے میں کم از کم تین افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔
حکام کے مطابق دوپہر تقریباً 3:30 بجے بابوسر روڈ پر جال اور دیونگ کے درمیان 7 سے 8 کلومیٹر کے علاقے میں کلاوڈ برسٹ ہوگیا جس سے 14 سے 15 مقامات پر بڑی رکاوٹیں کھڑی ہوگئیں، حادثے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوا۔
تین لاشوں اور ایک زخمی کو ریجنل ہیڈکوارٹر (آر ایچ کیو) اسپتال چلاس منتقل کیا گیا، جہاں زخمی زیرعلاج ہے۔
ریسکیو اور انخلاء کی کارروائیاں فوری طور پر شروع کردی گئیں۔ متاثرہ علاقوں میں پھنسے سیاحوں کو مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق 10 سے 15 گاڑیاں اب بھی پھنس ہوئی ہیں۔
امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم دشوار گزار راستوں اور مزید زمین کھسکنے کے خدشے کے باعث رسائی محدود ہے۔
ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پانچ بچے جاں بحق ہو گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق، شدید بارش کے باعث چھت گرنے سے تین بچے جاں بحق ہوئے، جب کہ دو دیگر بچے برساتی نالے میں بہہ گئے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مون سون کی وقفے وقفے سے ہونے والی بارشیں ملک کے مختلف حصوں، بشمول اسلام آباد اور راولپنڈی کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔
ترجمان محکمہ موسمیات کے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ 184 ملی میٹر بارش اسلام آباد میں ریکارڈ کی گئی۔
نارووال اور مظفرآباد میں 62 ملی میٹر، کوٹلی میں 57 ملی میٹر، راولپنڈی میں 54 ملی میٹر اور مری میں 42 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔