گلگت بلتستان میں پیر کے روز بابوسر روڈ پر ایک شدید کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) کے نتیجے میں اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم تین افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔ مقامی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔
حکام کے مطابق کلاؤڈ برسٹ دوپہر ساڑھے تین بجے کے قریب جل اور دیونگ کے درمیان 7 سے 8 کلومیٹر کے علاقے کو متاثر کرتا ہوا گزرا، جس سے 14 سے 15 مقامات پر بڑے پیمانے پر پتھروں کے گرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے باعث سڑک بند ہو گئی۔
تینوں لاشیں اور زخمی شخص کو فوری طور پر چیلاس کے ریجنل ہیڈکوارٹر (آر ایچ کیو) اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمی کو طبی امداد دی جارہی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جب کہ ضلعی انتظامیہ نے عوام اور سیاحوں کو بابوسر روڈ پر سفر سے گریز کی ہدایت جاری کی ہے۔
بابوسر روڈ پر بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ریسکیو اور انخلا کی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں۔ متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے محفوظ مقامات تک منتقل کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس ضلع دیامر نے متاثرہ مقام کا دورہ کیا اور علاقے کے وسط تک پہنچنے میں کامیاب رہے، تاہم شدید چٹانوں اور ملبے کے باعث مزید پیش قدمی ممکن نہ ہو سکی۔
پھنسے ہوئے سیاحوں کو چیلاس کے ہوٹلز میں منتقل کرنے کے لیے گرلز ڈگری کالج اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کا استعمال کیا گیا۔
بابوسر روڈ تاحال شدید متاثر اور مکمل طور پر بند ہے، شاہراہ قراقرم (کے کے ایچ) پر بھی لال پرہی اور تتھا پانی کے مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث آمد و رفت معطل ہے۔
انتظامیہ کے مطابق 10 سے 15 گاڑیاں اب بھی سیلابی نالوں اور ملبے سے بھرے علاقوں میں پھنسی ہوئی ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
متاثرہ علاقے میں صورتحال اب بھی حساس ہے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
گلگت بلتستان کے بابوسر روڈ پر بادل پھٹنے کے بعد جاری امدادی کارروائیاں دشوار گزار علاقے اور مزید لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے باعث سخت رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ زمین کی ناہمواری اور مسلسل بارش کا امکان رسائی کو مزید محدود کر رہا ہے۔
سوات: بارش سے جانی نقصان، 5 بچے جاں بحق
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پیر کے روز بارش سے متعلقہ دو مختلف حادثات میں پانچ بچے جاں بحق ہو گئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق تین بچے ایک مکان کی چھت گرنے سے جاں بحق ہوئے، جو تیز بارش کی وجہ سے کمزور ہو گئی تھی
دو بچے ایک نالے میں طغیانی کے باعث پانی میں بہہ گئے، ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امداد کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ان افسوسناک واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور جاں بحق بچوں کے لیے دعا مغفرت کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت غم زدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ موسم کی شدت کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور نالوں، پہاڑی علاقوں یا خستہ حال مکانات سے دور رہیں۔