پنجاب میں 25 جون سے بارشوں سے متعلق حادثات میں کم از کم 109 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، ریسکیو 1122 پنجاب نے جمعہ کو بتایا ہے کہ جاری مون سون کی شدید بارشوں نے صوبے میں تباہی مچا دی ہے۔
ریسکیو ادارے نے کہا ہے کہ برسات کی شدید صورتحال کے پیش نظر، پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے حکم پر پورے صوبے میں 15,000 ریسکیو اہلکار اور 800 کشتیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
پنجاب وزیراعلیٰ کے پی آر او نے بتایا ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پنجاب حکومت نے صوبے کے مختلف علاقوں بشمول راولپنڈی میں ”بارش ایمرجنسی“ کا اعلان کیا ہے کیونکہ صوبہ شدید بارشوں، سیلاب اور شہری آبادیوں میں پانی جمع ہونے کی صورتحال سے دوچار ہے۔
ریسکیو عہدیدار نے کہا کہ صورتحال بگڑنے پر ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے پورے صوبے میں متحرک کر دیے گئے ہیں تاکہ سیلابی صورتحال میں شہریوں کی حفاظت کی جا سکے۔
دریں اثنا ریسکیو 1122 پنجاب کے ترجمان فاروق احمد نے بتایا ہے کہ اب تک 745 افراد کو ریسکیو خدمات فراہم کی جا چکی ہیں، جن میں سے 307 کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی جبکہ 438 شدید زخمیوں کو بروقت اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں خاص طور پر میانوالی، ڈیرہ غازی خان، لیہ، راجن پور، ننکانہ اور جہلم میں 214 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ 370 افراد اور 176 مویشیوں کو ایمرجنسی ٹرانسپورٹ فراہم کی گئی ہے۔
ریسکیو 1122 کے حکام نے بتایا ہے کہ کل ہی مون سون اور موسلادھار بارشوں کے باعث 16 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ راولپنڈی سے 72، جہلم سے 128 اور فیصل آباد کے نشیبی علاقوں سے 54 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔
حالیہ بارشوں میں اضلاع کے اعتبار سے اموات کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ لاہور میں 24، فیصل آباد میں 15، شیخوپورہ میں 11، راولپنڈی میں 10، اوکاڑہ میں 8، بہاولنگر میں 7 اور دیگر اضلاع میں 34 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق زیادہ تر اموات مخدوس یا پرانی عمارتوں کے منہدم ہونے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔
فاروق احمد نے بتایا کہ 25 جون سے اب تک ریسکیو 1122 نے 351 عمارتوں کے منہدم ہونے کے واقعات، 22 کرنٹ لگنے کے کیسز، 61 ٹریفک حادثات، سات افراد کے بلندی سے گرنے، چار آسمانی بجلی گرنے اور 35 دیگر مختلف نوعیت کے حادثات میں امدادی خدمات فراہم کی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جاری مون سون اور ممکنہ سیلابی خطرات کے پیش نظر ریسکیو 1122 صوبے (پنجاب) بھر میں ہائی الرٹ پر ہے۔