علاقائی بحری رابطوں کو فروغ دینے کی کوششوں کے تحت 5 نجی کمپنیوں نے گوادر بندرگاہ کو خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے جوڑنے والی فیری سروس شروع کرنے کے لیے اپنی تجاویز وزارتِ بحری امور کو جمع کرائی ہیں۔ یہ بات وزارت بحری امور نے جمعہ کو بتائی ہے۔
یہ پیش رفت ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران سامنے آئی، جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کی۔ اجلاس میں مجوزہ فیری منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ان تجاویز کے تکنیکی، عملیاتی اور مالی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، جن کا مقصد پاکستان اور خلیجی ریاستوں کے درمیان براہِ راست بحری مسافر اور مال بردار سروس کا آغاز کرنا ہے۔
یہ اقدام وزارت کی یکم جولائی کو کی گئی اُس اعلان کے تسلسل میں ہے جس میں گوادر بندرگاہ کی عملی صلاحیت بڑھانے کے لیے نئی شپنگ لائنز اور علاقائی فیری روابط قائم کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔
مجوزہ فیری سروس کے ذریعے ایک کم لاگت اور موثر سفری و تجارتی راستہ میسر آئے گا، جس سے خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور سرحدی علاقوں میں تجارت کرنے والوں کو فائدہ پہنچے گا۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر جنید انور چوہدری نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جنہوں نے منصوبے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی اور اپنے صوبے میں سماجی و معاشی ترقی کے امکانات کو اجاگر کیا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا ہے کہ یہ فیری سروس نہ صرف پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان رابطے کو مضبوط کرے گی بلکہ گوادر کو خطے میں ایک اہم بحری مرکز کے طور پر ابھارنے میں مدد دے گی۔انہوں نے اس منصوبے کی اسٹریٹجک اور معاشی اہمیت پر زور دیا۔
اجلاس کا اختتام اس ہدایت کے ساتھ ہوا کہ منصوبے کے تمام ریگولیٹری اور لاجسٹک تقاضوں کا جائزہ مکمل کیا جائے تاکہ عملدرآمد کے مرحلے میں منصوبہ کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھ سکے۔