پاکستان

وزیرِاعظم کی الیکٹرک وہیکل عام شہریوں کیلئے قابلِ رسائی بنانے کی ہدایت

الیکٹرک وہیکلز کے فروغ سے ایندھن کی درآمدات میں اربوں ڈالر کی بچت ہوگی، شہباز شریف
شائع اپ ڈیٹ

وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز ہدایت دی کہ الیکٹرک وہیکلز (ای ویز) کو عام شہری کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنانے کے لیے حکومتی سطح پر ایک جامع حکمتِ عملی تیار کی جائے۔

وزیرِاعظم آفس کی پریس ریلیز کے مطابق اسلام آباد میں ملک میں ای وی استعمال کے فروغ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دینے سے اربوں ڈالر کی ایندھن درآمدات میں بچت، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی صنعت کی ترقی ممکن ہوگی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت، بشمول وفاقی تعلیمی بورڈ اور ملک بھر کے دیگر تعلیمی بورڈز، اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو الیکٹرک بائیکس فراہم کرے گی۔

وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ حکومت بیروزگار افراد کو الیکٹرک رکشے اور لوڈر گاڑیاں فراہم کر کے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو ترجیح دے گی۔

مقامی ای وی صنعت کی حمایت کے لیے وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ پاکستان میں ای وی کی تیاری اور مرمت کے لیے مکمل ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جائے۔

انہوں نے ای وی تقسیم کے عمل اور حکومتی معاونت کے میکنزم کی شفافیت اور مؤثریت کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ویریفکیشن کا مطالبہ کیا۔

وزیرِاعظم نے زور دیا کہ معاشی طور پر کمزور افراد کو حکومتی معاونت اسکیم کے تحت ای وی تک ترجیحی رسائی دی جائے۔

انہوں نے ای وی سبسڈی اسکیم سے متعلق عوامی آگاہی مہم شروع کرنے اور یہ یقینی بنانے کی ہدایت دی کہ اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی الیکٹرک بائیکس، رکشے اور لوڈرز اعلیٰ معیار اور حفاظتی معیارات پر پورا اتریں۔

وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، عطااللہ تارڑ، وزیرِاعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چیف کوآرڈینیٹر مشرف زیدی اور سینئر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو موجودہ صنعتی استعداد اور حکومت کے جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی جن کا مقصد کم لاگت قرضوں اور لچکدار شرائط کے ذریعے ای وی کی دسترس اور استطاعت کو یقینی بنانا ہے۔

حکومت کے تعاون سے ایک لاکھ سے زائد الیکٹرک بائیکس اور 3,000 سے زیادہ رکشے/لوڈرز آسان شرائط پر فراہم کیے جائیں گے۔

مزید بتایا گیا کہ ملک بھر کے اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے انٹرمیڈیٹ طلبہ، بشمول وفاقی بورڈ، اسکیم کے تحت مفت الیکٹرک بائیکس حاصل کریں گے۔

اسکیم میں خواتین کے لیے 25 فیصد کوٹہ رکھا گیا ہے، جبکہ باقی صوبائی کوٹے آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہوں گے۔ وزیرِاعظم نے بلوچستان کے کوٹے میں 10 فیصد اضافہ کرنے کی ہدایت دی۔

یہ اسکیم کم از کم چار نئی بیٹری مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو راغب کرے گی، جس سے سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری مواقع میں اضافہ ہوگا۔

وزیرِاعظم نے ہدایت دی کہ ان سفارشات کی بنیاد پر اسکیم کو جلد از جلد نافذ کیا جائے۔