قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے سفارش کی ہے کہ پاکستان میں کیمبرج انٹرنیشنل ایگزامینیشنز کے تمام معاملات قومی قوانین، بالخصوص آئی بی سی سی ایکٹ 2023 کے تحت مکمل طور پر انجام دیے جائیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں بدھ کے روز ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں، کیمبرج امتحانات کے پرچے افشا ہونے سے متعلق خصوصی ذیلی کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں تحقیقات اور قابلِ عمل پالیسی سفارشات شامل تھیں۔

رپورٹ میں امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کی جامع جانچ اور اس سے نمٹنے کے لیے موثر ریگولیٹری نظام وضع کرنے کی سفارش کی گئی، تاکہ ملک میں کام کرنے والے تمام غیرملکی امتحانی بورڈز کی نگرانی ممکن ہو سکے، بشمول کیمبرج انٹرنیشنل۔

کمیٹی نے وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور کیمبرج انٹرنیشنل کے درمیان کسی باضابطہ معاہدے کی عدم موجودگی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ آئی بی سی سی ایکٹ 2023 کے تحت تمام بین الاقوامی امتحانی بورڈز کے لیے انٹربورڈ کمیٹی آف چیئرمینز (آئی بی سی سی) کے ساتھ رجسٹریشن اور معیاری فریم ورک کی پیروی ضروری ہے۔

پرچہ افشا ہونے کے ردِ عمل میں، کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے اعلان کیا ہے کہ جون 2025 کے تین متاثرہ امتحانات میں شریک طلباء کو نومبر 2025 میں مفت دوبارہ امتحان (ری سِٹ) دینے کا موقع دیا جائے گا۔ یہ امتحان اختیاری ہوگا، اور اسکولوں کو جون کے نتائج کے بعد اندراج کی ہدایات جاری کی جائیں گی۔

اجلاس میں کئی قانون سازی تجاویز بھی منظور کی گئیں جن میں شامل ہیں:دی آربٹ انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025،دی البیرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی بل 2025،دی واہ انسٹیٹیوٹ آف ماڈرن سائنسز، واہ کینٹ بل 2025،اور دی راول انٹرنیشنل یونیورسٹی، اسلام آباد بل 2025۔

کمیٹی نے وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای) میں ڈائریکٹر جنرل کی اسامی طویل عرصے سے خالی ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جس سے ادارے کی کارکردگی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔

اسی طرح، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپیشل ایجوکیشن (ڈی جی ایس ای) کی عمارتوں پر مختلف اداروں بشمول پی آئی ای آر اے، فیڈرل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج (ایف ایم ڈی سی) اور پاکستان بیت المال کے قبضے پر بھی کمیٹی نے شدید مذمت کی۔ کمیٹی نے اسے خصوصی بچوں کے ساتھ سنگین ناانصافی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ان عمارتوں کو خالی کرانے کی ہدایت جاری کی۔

کمیٹی نے خصوصی بچوں کے تعلیمی اور بحالی حقوق کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا اور وزارتِ تعلیم کو ہدایت دی کہ اس معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کرے اور ڈی جی ایس ای کی مکمل معاونت یقینی بنائے۔

اجلاس میں شریک ارکانِ قومی اسمبلی میں شامل تھے:ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی (چیئرمین)،انجم عقیل خان،راجہ خرم شہزاد نواز،سیدہ نوشین افتخار،ذوالفقار علی بھٹی،سید سمیع الحسن گیلانی،زیب جعفر،فرح ناز اکبر (پارلیمانی سیکریٹری)،ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو،مہتاب اکبر راشدی،مسرت رفیق مہیسر،صبین غوری،آصف خان،داور خان کنڈی،فیاض حسین،محمد اسلم گھمن،زہرا ودود فاطمی،رانا محمد قاسم نون،رانا ارادت شریف خان۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025