وفاقی حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کو 31 جولائی 2025 تک مکمل طور پر بند کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔
بدھ کو فنانس ڈویژن میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت یو ایس سی کی بندش اور نجکاری کی نگرانی کے لیے وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ اعلیٰ سطح کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اس فیصلے کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ اجلاس کی تفصیلات فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کی گئیں۔
اجلاس میں کمیٹی نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کی بندش کے عمل کو شفاف اور منظم طریقے سے مکمل کرنے، ملازمین کے لیے مناسب اور قابلِ عمل رضاکارانہ علیحدگی اسکیم (وی ایس ایس) کی تیاری، اور نجکاری کے لیے واضح ٹائم لائن کی تشکیل جیسے اہم نکات پر غور کیا۔
کمیٹی نے اس بات کی توثیق کی کہ یو ایس سی کی تمام سرگرمیاں حکومت کی ہدایات کے مطابق 31 جولائی 2025 تک بند کر دی جائیں گی، ساتھ ہی ملازمین کے لیے ایک منصفانہ اور مالی لحاظ سے قابلِ عمل وی ایس ایس پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔
بیان کے مطابق کمیٹی ارکان نے مجوزہ وی ایس ایس کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جن میں اسکیم کا اندازہ شدہ حجم، مالیاتی اثرات، قانونی پیچیدگیاں اور عملدرآمد سے متعلق انتظامی پہلو شامل تھے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ وٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی نجکاری یا اثاثوں کی فروخت کے لیے بہترین حکمتِ عملی کی تیاری کے ضمن میں نجکاری کمیشن سے مشاورت کی جائے۔
جامع تجزیے کو سہولت دینے کے لیے اجلاس کے سربراہ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی۔
مزید برآں جامع تجزیے کو یقینی بنانے کے لیے اجلاس کے دوران ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی سربراہی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری کریں گے۔
ذیلی کمیٹی میں وزارت خزانہ اور وزارت صنعت و پیداوار کے نمائندے شامل ہوں گے جو مجوزہ وی ایس ایس کے قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ ہفتے کے اختتام تک مرکزی کمیٹی کو پیش کریں گے۔