مارکٹس

خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ

شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں بدھ کو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا جس کی وجہ امریکہ اور چین — دنیا کے دو بڑے صارفین — میں موسم گرما کے دوران مضبوط طلب کی توقعات تھیں تاہم تجزیہ کاروں کی وسیع تر معاشی صورتحال سے متعلق محتاط رائے نے اس اضافے کو محدود رکھا۔

برینٹ کروڈ کے سودے 13 سینٹ یعنی 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ فی بیرل 68.84 ڈالر پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کے سودے 25 سینٹ یعنی 0.4 فیصد بڑھ کر 66.77 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔

یہ اضافہ گزشتہ دو دن کی گراوٹ کو پلٹنے کا باعث بنا کیونکہ مارکیٹ نے اس خدشے کو کم اہمیت دی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر ٹیرف کی دھمکی کے بعد سپلائی میں کوئی بڑی رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سال کی دوسری ششماہی میں بہتر معاشی نمو کے آثار کی جانب اشارہ کر رہے ہیں جبکہ چین سے موصولہ اعداد و شمار مسلسل معاشی بہتری کو ظاہر کرتے ہیں۔

ایل ایس ای جی کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا کہ موسمی لحاظ سے مضبوط طلب اس وقت تیل کی قیمتوں کو اوپر لے جانے کا سبب بن رہی ہے کیونکہ گرمیوں میں سفر اور صنعتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔

پٹرول کی کھپت میں اضافہ، خصوصاً امریکہ میں فورتھ آف جولائی کی تعطیلات کے دوران ایندھن کی مضبوط طلب کی عکاسی کرتا ہے جس سے ذخائر میں اضافے اور ٹیرف سے متعلق خدشات جیسے منفی دباؤ کو متوازن کرنے میں مدد ملی ہے۔

چین کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوا کہ رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں معاشی نمو سست ضرور ہوئی لیکن اندازوں سے کم، جس کی ایک وجہ امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے درآمدات اور پیداوار میں پیشگی اضافہ تھا۔ اس سے دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کنندہ ملک کی معیشت سے متعلق کچھ خدشات میں کمی آئی۔

اعدادوشمار سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جون میں چین کی خام تیل کی پراسیسنگ گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.5 فیصد بڑھ گئی جو ایندھن کی مضبوط طلب کی نشاندہی کرتا ہے۔

تاہم کچھ تجزیہ کاروں نے قیمتوں میں اس بحالی کو عارضی قرار دیا ہے۔

فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا سچدیوا نے کہا کہ دو غیر مستحکم سیشنز کے بعد خام تیل کی منڈی میں جو استحکام آیا ہے وہ کسی بنیادی معاشی تبدیلی کے بجائے معمولی تکنیکی تصحیح کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاروں کو امریکا میں مہنگائی اور سود کی شرح سے متعلق توقعات پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ ٹرمپ کی جانب سے وسیع تر ٹیرف کے لیے مسلسل دباؤ مہنگائی کا باعث بن سکتا ہے اور درمیانی مدت میں ایندھن کی طلب کو کمزور کرسکتا ہے۔