خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی قیادت میں ایک قافلہ ہفتے کے روز صوبائی دارالحکومت (لاہور) پہنچا، جسے پارٹی رہنماؤں نے ”سیاسی تحریک کے نئے مرحلے کی ابتدا“ قرار دیا۔

یہ دورہ اس وقت ہوا جب پولیس کی موجودگی میں اضافہ، پارٹی کارکنوں کی گرفتاریاں اور پنجاب حکومت کے ساتھ کشیدگی عروج پر تھی۔

شاہدرہ موڑ پر قافلے کی آمد کے موقع پر پنجاب پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پولیس نے پارٹی کے چار کارکنوں کو گرفتار کیا، جن میں لاہور سے پارٹی ٹکٹ ہولڈر انجینئر یاسر گیلانی بھی شامل تھے۔

اگرچہ بعد میں یوسر گیلانی اور دیگر کارکنوں کو رہا کر دیا گیا، لیکن اس واقعے نے پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے سیاسی دباؤ اور دھمکیوں کے الزامات کو مزید تقویت دی۔ علاوہ ازیں، صحافیوں سے طے شدہ ملاقات کو بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث منسوخ کر دیا گیا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق قافلے میں پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی شامل تھے، جو رائیونڈ روڈ پر واقع ایک فارم ہاؤس جا رہے تھے، جہاں عشائیے کے ساتھ ساتھ پارٹی کی پارلیمانی کمیٹیوں کے اسٹریٹیجک اجلاس منعقد ہونے تھے۔ ان اجلاسوں میں سیاسی مہم کے اگلے مرحلے، احتجاجی حکمتِ عملی، اور معطل ہونے والے پی ٹی آئی ارکانِ اسمبلی کے خلاف قانون سازی کے ردعمل پر بات چیت ہونی تھی۔

روانگی سے قبل علی امین گنڈاپور نے کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ یہ قافلہ پنجاب اسمبلی سے معطل کیے گئے پی ٹی آئی کے 26 ارکان کے ساتھ پُرامن یکجہتی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا: ”یہ روایتی احتجاج نہیں بلکہ جمہوری اتحاد کا مظاہرہ ہے۔ ہم امن، بھائی چارے اور آئینی احترام کا پیغام لے کر آئے ہیں۔“

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ان کی حکومت نے پنجاب حکومت کو پہلے ہی اپنے پروگرام اور ارادوں سے آگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہمارے اسمبلی ارکان کو غیر آئینی اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے خاموش کرایا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ “سیاسی گرفتاریوں سے تحریک نہیں رکے گی، ہم جمہوری اقدار اور عوام کے حقِ نمائندگی کا دفاع کرتے رہیں گے۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی انہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی بڑے احتجاجی اعلان کا اختیار صرف پارٹی کے بانی عمران خان کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کا یہ دورہ صرف پارٹی ارکان سے ملاقات اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے ہے۔

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے ایک ویڈیو پیغام میں قافلے کا خیرمقدم کیا اور اسے ”پنجاب کی علامتی بیداری“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “لاہور کے عوام اپنے رہنماؤں کے استقبال کے لیے سڑکوں پر موجود ہیں۔ انہوں نے حکومتی جبر کی مذمت کرتے ہوئے کہا، اس پُرامن اظہارِ یکجہتی کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال آمرانہ طرز عمل ہے۔

ملک احمد خان بھچر نے کہا کہ اگر پولیس نے راستہ روکا تو پی ٹی آئی دھرنے دینے کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت پر بڑھتے ہوئے سیاسی جبر کا الزام عائد کیا۔

اس قافلے کی آمد کا سیاسی پس منظر یہ ہے کہ 27 جون کو پنجاب اسمبلی میں مریم نواز کے خطاب کے دوران احتجاج کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے کئی ارکان کو معطل کر دیا گیا تھا۔ تب سے ہزاروں پارٹی کارکنوں اور حمایتیوں کو گرفتار یا مقدمات میں نامزد کیا جا چکا ہے، کیونکہ پارٹی انتخابی اور سیاسی معاملات سے متعلق حکومتی طرزِ عمل کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔

علی امین گنڈاپور نے جہلم میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاسوں میں یہ بھی زیرِ غور آئے گا کہ تحریک کو کم از کم 5 اگست تک کس طرح جاری رکھا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارٹی قیادت مشاورت کے ذریعے اتفاقِ رائے قائم کرنا چاہتی ہے، کیونکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق یہ وقت پاکستان میں جمہوری مزاحمت کے لیے نہایت اہم ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025