متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی صحت میں بہتری آ رہی ہے، ایک پارٹی رہنما نے یہ بات سوشل میڈیا پر گردش کرتی افواہوں کے درمیان کہی ہے۔ واضح رہے کہ الطاف حسین کو ایک روز قبل طبیعت بگڑنے پر اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی نے بتایا کہ ”الطاف بھائی کی طبیعت آج کل کے مقابلے میں بہتر ہے۔ اُن کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور قوم کی دعاؤں سے اُن کی صحت میں بہتری آئی ہے۔“

۔

الطاف حسین کی صحت بہتر ہونے کی اطلاع پارٹی کارکنان تک پہنچاتے ہوئے، مصطفیٰ عزیز آبادی نے سوشل میڈیا پر گردش کرتی ”افواہوں“ کو مسترد کر دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ”الطاف بھائی“ سے متعلق پھیلائی جانے والی جھوٹی خبریں بے بنیاد ہیں، اور کارکنان کو چاہیے کہ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں۔

ادھر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر قاسم علی رضا نے کہا ہے کہ لندن کے ایک مقامی اسپتال میں مختلف ماہر اور ممتاز ڈاکٹروں کی ٹیم نے الطاف حسین کا تفصیلی طبی معائنہ کیا ہے۔

انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”ڈاکٹروں کے پینل نے گزشتہ روز کیے گئے مختلف ٹیسٹ کی رپورٹس کی روشنی میں الطاف حسین کو دی جانے والی ادویات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔“

۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی صحت میں بہتری آ رہی ہے تاہم ڈاکٹروں نے اُن کے خون کے خلیات کی کمی کے باعث آج بھی خون کی منتقلی جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ بات پارٹی کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر قاسم علی رضا نے بتائی ہے۔

قاسم علی رضا کے مطابق لندن کے ایک مقامی اسپتال میں مختلف ماہر اور ممتاز ڈاکٹروں کی ٹیم نے الطاف حسین کا تفصیلی طبی معائنہ کیا اور گزشتہ روز کیے گئے مختلف ٹیسٹ کی رپورٹس کی روشنی میں اُنہیں دی جانے والی ادویات کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

الطاف حسین کو جمعرات کی شب لندن میں طبیعت بگڑنے پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں اُن کے خون کے ٹیسٹ، ای سی جی، سی ٹی اسکین، ایکسرے اور الٹراساؤنڈ سمیت کئی تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔

ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی نے ایک روز قبل سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ”الطاف حسین کافی عرصے سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہے ہیں، جس کی وجوہات میں ملکی و بین الاقوامی جغرافیائی سیاسی حالات، لندن میں زیرِ سماعت مقدمات اور مالی مشکلات شامل ہیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ الطاف حسین کو شدید علالت کے باعث اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں ان کے متعدد طبی ٹیسٹ کیے گئے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے بانی 1992 سے خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی لندن میں گزار رہے ہیں۔ وہ ایک طویل عرصے تک پاکستانی سیاست میں سرگرم رہے اور ٹیلیفونک خطاب و بیانات کے ذریعے اپنی جماعت سے رابطے میں رہتے تھے، تا آنکہ 2015 میں اُن پر سنگین الزامات عائد کیے جانے کے بعد انہیں مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔