متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کو گزشتہ شب طبیعت ناساز ہونے پر لندن کے مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد مختلف طبی تشخیصی ٹیسٹ تجویز کیے ہیں، پارٹی رہنماؤں نے تصدیق کی ہے۔
لندن میں مقیم ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ عزیزآبادی کے مطابق جمعہ کو اسپتال میں الطاف حسین کا طبی معائنہ کیا گیا جس کے بعد خون کے ٹیسٹ، ای سی جی، سی ٹی اسکین، ایکس رے اور الٹراساؤنڈ سمیت متعدد تشخیصی ٹیسٹ تجویز کیے گئے۔
مصطفیٰ عزیزآبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں لکھا کہ ”الطاف حسین ایک طویل عرصے سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، جس کی وجوہات میں ملکی و بین الاقوامی جغرافیائی سیاسی حالات، لندن میں جاری قانونی مقدمات اور مالی مشکلات شامل ہیں۔“
ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ عزیزآبادی نے بتایا ہے کہ الطاف حسین کے علاج کے لیے ڈاکٹروں نے خون کی منتقلی (بلڈ ٹرانسفیوژن) بھی تجویز کی ہے اور جزوی طور پر خون چڑھایا جا چکا ہے۔
انہوں نے عوام سے الطاف حسین کی صحتیابی کے لیے دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم ان کی صحت کے حوالے سے ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔“
گزشتہ شب سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں مصطفیٰ عزیزآبادی نے کہا تھا کہ الطاف حسین کو شدید علالت کے باعث لندن کے اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں ان کے متعدد طبی ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
مصطفیٰ عزیزآبادی نے مزید کہا ہے کہ الطاف حسین کو ڈاکٹر کی سفارش پر اسپتال داخل کیا گیا کیونکہ ان کی طبیعت گزشتہ شب بگڑ گئی تھی۔
الطاف حسین 1992 سے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی میں رہ رہے ہیں۔ وہ طویل عرصے تک پاکستانی سیاست میں سرگرم رہے اور فون کالز کے ذریعے تقریریں اور پیغامات جاری کرتے رہے تاہم 2015 میں ان پر سنگین الزامات عائد ہونے کے بعد انہیں مطلوب قرار دے دیا گیا۔