دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کی وجہ انسٹیٹیوشنل سرمایہ کاروں کی بڑھتی طلب اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی کرپٹو دوست پالیسیاں بتائی جارہی ہیں۔
بٹ کوائن جمعہ کو ایشیائی سیشن کے دوران 116,781.10 ڈالر کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا۔ واضح رہے کہ رواں سال بٹ کوائن کے منافع کا تناسب 24 فیصد سے تجاوز کرگیا ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق بٹ کوائن 116,563.11 ڈالر پر ٹریڈ کررہا تھا۔
ہانگ کانگ ویب 3 ایسوسی ایشن کے شریک چیئرمین جوشوا چو نے کہا کہ بٹ کوائن کی نئی تاریخی بلند ترین سطح دراصل ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی مسلسل اور جارحانہ خریداری کا نتیجہ ہے — بڑے سرمایہ کار بٹ کوائن کی بڑی مقدار مارکیٹ سے سمیٹ رہے ہیں جس کے باعث ایکسچینجز پر دستیاب سپلائی کم ہوکر رہ گئی ہے۔
مارچ میں صدر ٹرمپ نے کرپٹو کرنسیز کا اسٹریٹجک ذخیرہ قائم کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ ساتھ ہی انہوں نے متعدد کرپٹو حامی شخصیات کو اہم عہدوں پر تعینات کیا، جن میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین پال ایٹکنز اور وائٹ ہاؤس کے مصنوعی ذہانت کے سربراہ ڈیوڈ سیکس شامل ہیں۔
ٹرمپ کا خاندان بھی کرپٹو کرنسیز کے شعبے میں قدم رکھ چکا ہے۔ منگل کو امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے مطابق، ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ ایک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو بٹ کوائن سمیت متعدد کرپٹو ٹوکنز میں سرمایہ کاری کرے گا۔
ایتھر، جو دنیا کی دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ہے بھی تقریباً 5 فیصد اضافے کے ساتھ 2,956.82 ڈالر تک پہنچ گئی، اس سے قبل یہ پانچ ماہ کی بلند ترین سطح 2,998.41 ڈالر پر بھی پہنچی تھی۔