پاکستان کی تازہ ترین مردم شماری، جو مارچ 2023 میں کی گئی، کے مطابق ملک کے 84 فیصد گھرانوں کو گرڈ بجلی تک رسائی حاصل ہے، جو 2017 میں 88 فیصد تھی۔ اگرچہ شہری علاقوں میں بجلی کی فراہمی تقریباً مستحکم رہی — یعنی 97 فیصد سے معمولی کمی کے بعد 95 فیصد — مگر اصل تبدیلی دیہی علاقوں میں واقع ہوئی ہے۔

دیہی علاقوں میں گرڈ سے بجلی کی رسائی 82 فیصد سے کم ہو کر 77 فیصد پر آ گئی ہے۔ بظاہر یہ انفراسٹرکچر کی ناکامی لگتی ہے، لیکن ڈیٹا پر گہری نظر ڈالنے سے کچھ اور ہی کہانی سامنے آتی ہے: پاکستان کے دیہی گھرانے اب بجلی کے قومی گرڈ سے دانستہ طور پر الگ ہو رہے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار شمسی توانائی (سولر پاور) قومی مردم شماری میں گھریلو روشنی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر شامل ہوئی ہے — ملک بھر میں 8 فیصد اور دیہی علاقوں میں 11 فیصد گھرانے سورج کی روشنی سے بجلی حاصل کر رہے ہیں۔ دیہی بلوچستان میں یہ شرح 34 فیصد اور دیہی سندھ میں 22 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ پنجاب اور شہری پاکستان پیچھے رہ گئے ہیں۔

یہ تبدیلی محض اتفاقی یا انفرادی نہیں بلکہ منڈی سے پیدا ہونے والی، خودبخود، اور نچلی سطح سے اٹھنے والی تحریک ہے۔ یہ کہانی ضرورت سے پیدا ہونے والی جدت کی ہے — جہاں برادریوں نے قومی گرڈ کا انتظار چھوڑ کر شمسی توانائی سے چلنے والے، غیر مرکزی نظام اپنا لیے ہیں۔

اور مردم شماری صرف شروعات کو ظاہر کرتی ہے۔ مارچ 2023 کے بعد سے پاکستان میں سولر پینلز کی درآمدات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ سال 2023 میں پاکستان نے 377 ملین ڈالر مالیت کے سولر پینل درآمد کیے، لیکن اگلے 17 ماہ میں یہ عدد بڑھ کر 3.1 ارب ڈالر ہو چکا ہے — جس میں سے 1.1 ارب ڈالر صرف 2025 کے پہلے پانچ ماہ میں درآمد کیے گئے۔

پاکستان نے گزشتہ دو برسوں میں اتنے سولر پینل درآمد کیے جتنے اس سے پہلے کے تمام برسوں میں مجموعی طور پر بھی نہیں کیے تھے۔ اس میں بیٹریز کی قیمتوں میں کمی اور ڈی سی سے چلنے والے آلات کے عام ہونے کو شامل کر لیں تو مردم شماری کے بعد دیہی علاقوں میں شمسی توانائی کے استعمال میں دوگنا اضافہ نہ صرف ممکن بلکہ محتاط اندازہ لگتا ہے۔

دوسری جانب، شہری علاقوں میں سولر کا رجحان گرڈ سے منسلک نیٹ میٹرنگ سسٹمز کی شکل میں اپنایا جا رہا ہے — جو زیادہ آمدنی والے گھرانوں تک محدود ہے۔ یہاں بھی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نیپرا کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں نیٹ میٹرنگ کے ذریعے برآمد کی جانے والی بجلی 2023 کے مقابلے میں تین گنا ہو سکتی ہے، خاص طور پر گرمیوں کے مہینوں میں۔ لیکن یہ اضافہ پالیسی کے خلا کے باعث ہو رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے خریداری نرخوں کو منصفانہ بنانے میں ناکامی ایک غلط انداز میں عوامی مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کی بدترین مثال بن چکی ہے۔ پچھلے سال حکومت نے یہ پالیسی خاموشی سے بدلنے کی کوشش کی، لیکن دباؤ کے تحت واپس لے لی گئی۔ اس کے بعد سے ریاست نے قیادت کے بجائے خاموشی کو ترجیح دی ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے کئی بار اشارے دیے گئے، کوئی عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔ نتیجتاً، پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کے سب سے زیادہ منافع بخش نرخ برقرار ہیں — جس کا فائدہ چند بااثر گھرانے اٹھا رہے ہیں، جبکہ گرڈ پر انحصار کرنے والے صارفین پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔

یہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ غیر پائیدار بھی ہے۔ وہ گھرانے جو سولر لگانے کی استطاعت نہیں رکھتے، کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں یا مشترکہ رہائش گاہوں میں مقیم ہیں، وہ ایک طرف بڑھتے ہوئے ٹیرف اور غیر یقینی فراہمی کا سامنا کر رہے ہیں، اور دوسری طرف دوسروں کی سولر بچت کو بالواسطہ طور پر سبسڈی دے رہے ہیں۔ اس نظام میں خریداری نرخوں کا ازسرِنو تعین ناگزیر ہے تاکہ انصاف بحال ہو۔ چھت پر سولر لگانا پرکشش ضرور رہے، لیکن اکثریت کی قیمت پر نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، ریاست کے سبسڈی ماڈل پر بھی نظرِ ثانی کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان اب بھی ضرورت کے بجائے کھپت کو سبسڈی دیتا ہے۔ آج کل ہائبرڈ نظام عام ہیں، جن میں اکثر خوشحال گھرانے دن میں سولر اور رات کو سبسڈی والی بجلی استعمال کرتے ہیں — اور کم رپورٹ شدہ یونٹس کی بنیاد پر لائف لائن ٹیرف کے اہل بن جاتے ہیں، حالانکہ ان کی اصل کھپت زیادہ ہوتی ہے۔ اس نظام میں کمزور کو نہیں بلکہ جھوٹ کو انعام دیا جاتا ہے۔ بہتر طریقے پہلے سے موجود ہیں — جیسے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا غربت کی بنیاد پر ٹیسٹنگ ڈیٹا — جس کی بنیاد پر سبسڈی کی منصفانہ تقسیم ممکن ہے، بل کی کیٹیگری کے بجائے سماجی و معاشی حقائق پر مبنی۔

پاکستان کی توانائی کی منتقلی دو الگ راستوں پر چل رہی ہے:ایک دیہی علاقوں میں گرڈ سے ہٹ کر سولر پر انحصار — جو کہ مجبوری کے تحت ہو رہا ہے۔ دوسراشہری علاقوں میں گرڈ سے جڑی نیٹ میٹرنگ سولر بوم — جو حکومتی خاموشی کی وجہ سے پھل پھول رہا ہے۔ان دونوں کو جو چیز جوڑتی ہے وہ ہے پالیسی کی دور اندیشی کا فقدان۔

حکومت نے منڈی کو آگے بڑھنے دیا مگر قوانین، قیمتوں اور انصاف کے اصولوں کو اپ ڈیٹ نہیں کیا۔ اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھتی ہے یا ماضی کی طرح پیچھے ہٹتی ہے۔ فیصلہ یہی کرے گا کہ یہ تبدیلی ایک منقسم اور غیر منصفانہ کہانی بنتی ہے یا پاکستان کی توانائی کی تاریخ کا سب سے جامع اور شمولیتی باب۔