کمپیٹیشن ایپیلٹ ٹربیونل نے الیکٹرانک ہوم اپلائنسز بنانے والی معروف کمپنیوں کے خلاف قیمتوں کے ازسرِنو تعین (آر پی ایم) کے معاملے میں کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے جو کہ مسابقتی ایکٹ 2010 کے تحت ممنوعہ عمل ہے۔ یہ بات سی سی پی نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہی ہے۔

ٹربیونل نے قانون کی خلاف ورزی سے متعلق سی سی پی کی تحقیقات کو تسلیم کرتے ہوئے جرمانے کی رقم کو کم کر کے 9 کروڑ روپے کر دیا، اور کمپنیوں کو ہدایت دی کہ وہ یہ رقم 30 دن کے اندر جمع کرائیں۔

سی سی پی نے اپنی ابتدائی تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ گھریلو الیکٹرانکس بنانے والی دو بڑی کمپنیاں اپنے ڈیلرز کو طے شدہ قیمتوں سے کم پر فروخت، رعایت دینے یا پیکج آفرز سے روک کر غیر مسابقتی عمل میں ملوث رہی ہیں، جو مارکیٹ میں منصفانہ مقابلے کے اصولوں کے خلاف ہے۔

اپنے دفاع میں کمپنیوں نے خلاف ورزی کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا بلکہ موقف اختیار کیا کہ عائد کردہ جرمانہ زیادہ ہے۔

ٹربیونل نے نوٹ کیا کہ درخواست گزار کمپنیوں نے اصلاحی اقدامات کیے، جن میں ڈیلرز کو وہ رقوم واپس کرنا شامل ہے جو قیمتوں کے تعین کی پالیسی کے تحت ان پر عائد کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ کمپنیوں نے مستقبل میں مسابقتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کرائی۔

نرمی کے عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے، بالخصوص تعاون پر مبنی رویہ اور متاثرہ فریقین کو ادائیگی، ٹربیونل نے دونوں کمپنیوں پر عائد جرمانے میں کمی کر دی۔ اس کے ساتھ ہی ٹربیونل نے اس بات کو بھی سراہا کہ کمپنیاں آئندہ قانونی کاروباری ضابطوں پر عمل پیرا رہنے کا عزم رکھتی ہیں۔

آخر میں کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے تمام کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی قسم کی قیمتوں کے تعین کی پالیسی سے گریز کریں، جن میں کم از کم یا زیادہ سے زیادہ ری سیل قیمتیں مقرر کرنا، رعایتوں یا تشہیری پیشکشوں پر پابندی عائد کرنا شامل ہے، کیونکہ ایسی تمام کارروائیاں مسابقتی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں شمار ہوتی ہیں۔