وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعرات کو نیشنل ٹیرف کمیشن (این ٹی سی) کے قانونی، انتظامی اور دیگر ادارہ جاتی اختیارات و ذمہ داریوں کی فوری ازسرِ نو تنظیم کی ہدایت جاری کی ہے۔

وزیراعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم نے یہ ہدایات نیشنل ٹیرف کمیشن کی کارکردگی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کی حالیہ کارکردگی کا تھرڈ پارٹی سے جائزہ لیا جائے تاکہ کمیشن کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ این ٹی سی کی خودکار اور مؤثر تحقیقاتی صلاحیت مقامی کاروبار کو درپیش چیلنجز کے حل میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔

مزید برآں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نیشنل ٹیرف کمیشن میں تربیت اور وسائل کی کمی کو دور کرنے اور اس کے کام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کی اپیلٹ ٹربیونل کو فوری طور پر فعال کیا جائے۔

گزشتہ ہفتے نیشنل ٹیرف کمیشن نے پہلی اینٹی سرکمنشن تحقیق مکمل کی جس کے نتیجے میں پہلے سے عائد اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز کو ایک معمولی ترمیم شدہ مصنوعات پر بھی لاگو کردیا گیا۔

مزید یہ کہ، کمیشن نے گزشتہ 25 برسوں کے دوران 100 سے زائد مصنوعات کی درآمد پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز کے ذریعے 40 ارب روپے کی رقم حاصل کی ہے۔

این ٹی سی کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کمیشن نے سال 2000 سے اب تک ڈمپڈ درآمدات کے 150 مقدمات کی تحقیقات کی ہیں۔ ان میں سے 114 کیسز میں اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز عائد کی گئیں جن کے ذریعے مجموعی طور پر 40 ارب روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔