کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 کے ایک فلیٹ سے ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش برآمد ہونے کے بعد معاملے نے ہولناک شکل اختیار کرلی ہے۔

کراچی پولیس کے مطابق ماڈل واداکارہ حمیرا اصغر کا ممکنہ طور پر کئی ماہ قبل انتقال ہوچکا تھا۔ واضح رہے کہ اداکارہ و ماڈل کی لاش رواں ہفتے ڈیفنس فیز 6 کے اتحاد کمرشل ایریا میں واقع ان کے اپارٹمنٹ سے برآمد ہوئی تھی۔

آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر قانون نافذ کرنے والے ادارے سمجھتے تھے کہ لاش 6 ماہ پرانی ہے تاہم ڈیجیٹل اور فرانزک شواہد سے معلوم ہوا کہ یہ لاش دراصل 9 ماہ پرانی ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا نے بدھ کو عرب نیوز کو بتایا کہ حمیرا کے فلیٹ سے جمع کیے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا انتقال ممکنہ طور پر اکتوبر 2024 کے قریب ہوا تھا۔ ڈی آئی جی رضا کے مطابق فلیٹ میں موجود کھانے پینے کی اشیاء کی میعاد 2024 کی ہے اور اداکارہ کے موبائل فون پر آخری پیغامات بھی اکتوبر 2024 کے ہیں۔

یاد رہے کہ 32 سالہ اداکارہ حمیرا اصغر جو گزشتہ 7 برس سے فلیٹ میں تنہا مقیم تھیں اس وقت مردہ حالت میں پائی گئیں جب کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان کے عدالت پہنچنے پر عدالتی بیلف ان کے گھر پہنچا اور فلیٹ کا دروازہ نہ کھولنے پر دروازہ توڑا گیا تو اداکارہ کی لاش برآمد ہوئی۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے تصدیق کی ہے کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے تاہم لاش کے شدید سڑ گل جانے کے باعث موت کی درست وجہ فی الحال معلوم نہیں ہو سکی۔ انہوں نے بتایا کہ “ڈی این اے اور کیمیکل نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں، اور حتمی نتائج لیبارٹری رپورٹس موصول ہونے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی اسد رضا نے مزید بتایا کہ حمیرا کے موبائل فون میں دو سمیں موجود تھیں جو ستمبر 2024 سے غیر فعال تھیں، اسی عرصے کے دوران، بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی پر کےالیکٹرک نے ان کے اپارٹمنٹ کی بجلی بھی منقطع کردی تھی۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ اداکارہ کے فلیٹ کے ساتھ والا اپارٹمنٹ خالی تھا جس کے باعث کسی کے لیے کوئی غیر معمولی بات محسوس کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

اسد رضا نے انکشاف کیا کہ حمیرا کا خاندان جو لاہور میں مقیم ہے نے ابتدائی طور پر ان کی لاش وصول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ تاہم ان کے بہنوئی کی آج پولیس سے ملاقات کی توقع ہے۔ دوسری جانب شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے پیشکش کی ہے کہ اگر خاندان ذمہ داری نہ لے تو وہ اداکارہ کی آخری رسومات اور تدفین کا بندوبست کریں گے۔

اداکارہ کی لاش مردہ خانے منتقل کردی گئی ہے ، حکام کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ کے منتظر ہیں، مزید تحقیقات جاری ہیں۔

یہ واقعہ کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے کہ کراچی کے ایک مصروف ترین علاقے میں ایک معروف شخصیت تنہائی میں زندگی کی بازی کیسے ہار گئی اور مہینوں تک کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔

یاد رہے کہ سینئر اداکارہ عائشہ خان جو تنہا زندگی گزار رہی تھیں 19 جون کو کراچی میں اپنے فلیٹ سے مردہ حالت میں پائی گئیں۔ ان کی لاش ان کی وفات کے کئی روز بعد اس وقت دریافت ہوئی جب ہمسایوں نے ان کے گھر سے اٹھنے والی بدبو کی اطلاع پولیس کو دی۔