پاکستان

بوم اینڈ بسٹ سائیکل: اسٹیٹ بینک کا طلب اور تیز رفتار ترقی کی پرانی غلطیاں نہ دہرانے کا مشورہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے پیر کو کہا ہے کہ پاکستان ماضی کی غلطیاں جیسے طلب اور اقتصادی ترقی کو...
شائع July 7, 2025 اپ ڈیٹ July 7, 2025 02:45pm

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے پیر کو کہا ہے کہ پاکستان ماضی کی غلطیاں جیسے طلب اور اقتصادی ترقی کو تیزی سے بڑھانا نہیں دہرائے گا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے اشتراک سے کاروباری خواتین کے لیے فنانس کوڈ کے آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ سخت محنت سے حاصل کردہ معاشی استحکام سے ترقی کی جانب موجودہ سفر اس بار پائیدار ثابت ہوگا — برخلاف حالیہ برسوں میں دیکھے گئے بار بار کے معاشی عروج و زوال کے چکروں کے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر (جو اسٹیٹ بینک کے پاس ہیں) میں ہونے والا زبردست اضافہ ان کے اس اعتماد کی کئی وجوہات میں سے ایک ہے کہ اس بار طویل مدتی معاشی ترقی حاصل کی جا سکتی ہے، کیونکہ اس وقت اسٹیٹ بینک کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جو کہ 2023 کے آغاز میں 3 ارب ڈالر سے بھی کم تھے۔

انہوں نے کہا کہہ ذخائر کا اضافہ ہمارے زرمبادلہ کی خریداری (مقامی کرنسی مارکیٹوں بشمول انٹربینک مارکیٹ سے) کے ذریعے ہوا ہے، نہ کہ بیرونی قرضوں سے، جیسا کہ 2015 سے 2022 کے درمیان تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، کرنٹ اکائونٹ سرپلس میں آ چکا ہے، اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں۔ شرح مبادلہ نسبتاً مستحکم ہے اور معاشی ترقی بھی بتدریج بڑھ رہی ہے… سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت معاشی منظرنامہ دو سال قبل کے مقابلے میں کہیں زیادہ امید افزا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اور حکومت کی جانب سے نافذ کردہ سخت مگر ضروری میکرو اکنامک استحکام کی پالیسیوں کے نتیجے میں، ہم اب مشکل دور سے باہر نکل چکے ہیں۔

’ماضی کی غلطیاں نہ دہرانا انتہائی اہم ہے‘

جمیل احمد نے کہا کہ استحکام کا دور اکثر معاشی عروج و زوال کے چکر کے بعد آتا ہے۔ ان پیٹرنز کو اس بار دہرانے سے بچنے کے لیے، ماضی کی غلطیوں — جیسے کہ مانگ اور معاشی ترقی کو بہت تیزی سے بڑھانا، خاص طور پر اندرونِ ملک مرکوز شعبوں میں — کو دہرانا نہیں چاہیے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس بار پائیدار معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے اعتماد کی بنیاد 25-2024 کے مالی سال میں 9 سال کی کم ترین مہنگائی — اوسطاً 4.5 فیصد — پر ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ دانشمندانہ اور مربوط مالیاتی و مالی پالیسیوں کے امتزاج سے مہنگائی اپنے ہدف شدہ دائرہ 5 فیصد سے 7 فیصد میں مستحکم ہو جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرونی کھاتوں کی بہتر کارکردگی اور اعلیٰ معیار کے زرمبادلہ ذخائر کے بفر کی بدولت زرمبادلہ کی مارکیٹ مستحکم ہے۔ کرنٹ اکائونٹ متوازن رہنے کی توقع ہے، جس کی بنیاد مضبوط ترسیلات زر اور مستحکم برآمدات پر ہے، باوجود اس کے کہ درآمدات کی قدر اور حجم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو کہ جاری معاشی بحالی کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالیاتی پالیسی نے بھی سخت مانیٹری پالیسی کی حمایت کی ہے، جیسا کہ مالی سال 2025 میں مسلسل دوسرے سال بنیادی سرپلس کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے۔ “ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدنی دونوں میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے، جبکہ مجموعی اخراجات نسبتاً قابو میں رہے ہیں۔ حکومت پاکستان مالی سال 2026 کے لیے زیادہ بنیادی سرپلس کا ہدف رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آخری مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ توجہ اب ان اصلاحات کی طرف منتقل ہو رہی ہے جو ساختی مسائل کو حل کرتی ہیں۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، سرکاری اداروں کی نجکاری، اور تجارتی آزادی جیسے اقدامات سے مؤثر کارکردگی، نجی شعبے کا بڑھا ہوا کردار، اور مقابلے کی فضا میں بہتری آئے گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے خواتین کی قیادت میں کاروباروں کی معاونت کے لیے 500 ملین ڈالر کے قرضہ پروگرام کے ساتھ ویمن انٹرپرینیور فنانس کوڈ کا آغاز کیا ہے۔

تقریباً 20 بینکوں اور مالیاتی اداروں نے اس اقدام میں شمولیت اختیار کی، جسے عالمی بینک کی حمایت بھی حاصل ہے۔