بلوم برگ کے مطابق بھارت حالیہ پاک بھارت تصادم کے صرف ایک ماہ بعد اپنے فضائی دفاعی نظام کی ازسرِنو تنظیم اور اسلحہ کے ذخائر کی فوری بحالی کے لیے سرگرم ہو چکا ہے اور اس نے 12.3 ارب ڈالر مالیت کی ہنگامی دفاعی خریداریوں کی منظوری دے دی ہے۔

یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت کے نائب فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے جمعہ کو انکشاف کیا کہ چین نے حالیہ تنازع کے دوران پاکستان کو براہِ راست انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں۔

یہ انکشاف بھارتی دفاعی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے اور حکام اب اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ بھارت بیک وقت دو محاذوں پر — پاکستان اور چین کے خلاف — نبرد آزما تھا۔

نئی دہلی میں دفاعی صنعت سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سنگھ نے بتایا کہ جب ڈی جی ایم او سطح پر مذاکرات جاری تھے، پاکستان نے بھارتی عسکری نقل و حرکت سے متعلق ایسی معلومات دیں جو صرف براہِ راست انٹیلی جنس کے ذریعے حاصل ہو سکتی تھیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے کہا کہ ہم جانتے ہیں آپ کا فلاں اہم ویکٹر تیار ہے، وہ چین سے براہِ راست معلومات حاصل کر رہا تھا۔

یہ بیان بھارت کا اب تک کا سب سے واضح اعتراف ہے کہ چین کی ریئل ٹائم سیٹلائٹ اور ریڈار انٹیلی جنس اور ترکیہ سے فراہم کردہ جدید ڈرونز نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی افواج کو اچانک اور شدید دباؤ میں ڈال دیا۔

یاد رہے کہ یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملہ ہوا، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا، تاہم پاکستان نے اس الزام کو سختی سے مسترد کردیا۔ اس کے بعد لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب ڈرون اور میزائل حملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔

بھارت کی جدید فضائیہ کے باوجود پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) نے 6 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، جن میں کم از کم تین فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بھی شامل تھے۔

فضائی نقصانات اور خفیہ معلومات کے افشاء کے باعث بھارت کو تصادم کے دوران ہی اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنا پڑی، اور اب دفاعی ماہرین ان کمزوریوں کو چین کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی گئی سیٹلائٹ اور ریڈار مدد سے جوڑ رہے ہیں۔

بلوم برگ کے مطابق بھارت اس وقت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک ہے۔

اگرچہ 2020 میں لداخ کی سرحدی جھڑپ کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات کچھ حد تک مستحکم ہو رہے تھے، تاہم جنرل سنگھ کے حالیہ انکشاف نے ان تعلقات میں پھر سے تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ ساتھ ہی نئی دہلی کو یہ اعتراف بھی کرنا پڑا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام اور جنگی ساز و سامان کے ذخائر پاکستان اور چین کے ممکنہ مشترکہ محاذ کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

ہنگامی طور پر اسلحہ کا دوبارہ بندوبست

پاکستان سے حالیہ جھڑپ کے بعد بھارت نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ہنگامی دفاعی خریداری مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد دفاعی خلا کو فوری طور پر پُر کرنا اور جنگی تیاریوں کو مؤثر بنانا ہے۔

  • بھارت نے 12.3 ارب ڈالر کے دفاعی فنڈز کی فوری منظوری دے دی ہے، جن کے ذریعے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز، اور بکتر بند ریکوری وہیکلز کی خریداری کی جائے گی۔ اس کے ساتھ بحریہ کے لیے بھی تیاریوں میں تیزی لائی گئی ہے، جس میں لنگر انداز بارودی سرنگیں، بارودی سرنگوں سے بچاؤ کے جہاز، خودکار آبدوز نما گاڑیاں، اور انتہائی تیز رفتار توپوں کی شمولیت شامل ہے۔ یہ تمام سازوسامان بھارت میں ہی تیار کیا جائے گا تاکہ مقامی دفاعی صنعت کو فروغ مل سکے۔

  • اہم نئے آرڈرز میں جنوبی کوریا سے 100 کے قریب K9 وجرا-ٹی خودچلنے والی ہوٹزر توپیں، متعدد پینا کا راکٹ رجمنٹس اور تقریباً 120 پرَلَے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔ ان کا مقصد قریبی فاصلے پر حملے کی بھارتی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور موجودہ دفاعی خلا کو پُر کرنا ہے۔

  • رائٹرز کے مطابق بھارت نے گزشتہ ہفتے 230 ملین ڈالرمالیت کے ڈرون مراعاتی منصوبے کا اعلان کیا، جس کا مقصد ڈرونز کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ترکیہ سے فراہم کردہ بایراکتار ڈرونز نے حالیہ تنازع میں پاکستان کو فضا میں غیر متوقع برتری دلائی، جس نے بھارت کی فضائی دفاعی صلاحیت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔

مقامی دفاعی صنعت کی اصلاحات

بھارت کے دفاعی منصوبہ سازوں نے غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کم کرنے کے لیے بھرپور اور تیز رفتار حکمتِ عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • بھارتی فوج نے اب یہ منصوبہ بنایا ہے کہ مالی سال 2025-26 تک 150 اقسام کے گولہ بارود — جن میں توپوں کے گولے سے لے کر ٹینکوں کے راؤنڈز تک شامل ہیں — کی درآمد کو مرحلہ وار ختم کر دیا جائے گا۔

  • مقامی سطح پر تیار کردہ نئے گولوں کو تیز رفتاری سے آزمائشی مراحل سے گزارا جا رہا ہے تاکہ آئندہ دہائی میں 1.2 ارب ڈالر کی متوقع طلب کو مؤثر طور پر پورا کیا جا سکے۔

  • دفاعی خریداری کے قواعد و ضوابط میں مکمل اصلاحات کی گئی ہیں تاکہ ساز و سامان کے حصول کا دورانیہ کم اور رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔

مشترکہ تھیٹر کمانڈز کی تشکیل

محض جنگی سازوسامان ہی نہیں بلکہ بھارت کی طویل عرصے سے التواء کا شکار فوجی ڈھانچے کی ازسرِ نو تنظیم کی کوششیں اب تیزی اختیار کرتی جارہی ہیں۔

سال کے آغاز میں تجویز کیے گئے مشترکہ تھیٹر کمانڈز کے قیام — جس کا مقصد بری، بحری اور فضائی افواج کے اثاثوں کو متحد قیادت کے تحت لانا ہے — کو اب تیزی سے عملی شکل دی جا رہی ہے۔ مشترکہ فضائی دفاعی کمانڈز، فوج کے میدانِ جنگ میں استعمال ہونے والے ریڈار نیٹ ورک کو فضائیہ کے مربوط فضائی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور بحریہ کے نظام سے جوڑ دیں گے، تاکہ کسی بھی قسم کی کمزوری یا خلا کو مؤثر طور پر دُور کیا جاسکے۔

چین کا عنصر: دو محاذوں پر نئی جنگی حقیقت

چین کی وزارتِ خارجہ نے تاحال جنرل سنگھ کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی نہیں کی۔

تاہم اس واقعے کے بعد بھارت کے سیکیورٹی اداروں میں یہ یقین مزید پختہ ہو گیا ہے کہ آئندہ کسی بھی ممکنہ تنازع میں چینی سیٹلائٹس، ریڈار نظام یا سائبر اثاثے پاکستان کے لیے ایک مؤثر معاون قوت کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

جنرل سنگھ نے جمعہ کو زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صورتحال ہمارے فضائی دفاعی نظام کی فوری بہتری کو ناگزیر بنا دیتی ہے، یہ بیان واضح اشارہ ہے کہ بھارت کے لیے ازسرِ نو ہتھیاروں سے لیس ہونا اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک مجبوری بن چکا ہے۔