انٹربینک مارکیٹ میں پیر کو ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 0.09 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 284.22 پر بند ہوا جو 25 پیسے کی کمی ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکی کرنسی کے مقابلے میں روپیہ 0.09 فیصد کی تنزلی سے 283.97 پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر پیر کو یورو کے مقابلے میں 2021 کے بعد کی کم ترین سطح کے قریب رہا اور سوئس فرانک کے مقابلے میں 2015 کے بعد کی سب سے کمزور سطح پر رہا، اس دوران تاجر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف کی آخری تاریخ کے قریب تجارتی خبروں کے حوالے سے چوکس نظر آئے۔
امریکہ کے زیادہ تر تجارتی شراکت دار بدھ کو صدر ٹرمپ کی یومِ آزادی کے تحت متعارف کردہ باہمی ٹیرف کے 90 روزہ عبوری دور کے اختتام پر سخت تر محصولات کا سامنا کرنے والے ہیں، اب تک صرف برطانیہ، چین اور ویتنام نے ہی وائٹ ہاؤس کے ساتھ کسی حد تک تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ پیر کو درجن بھر ممالک کے ناموں کا اعلان کریں گے جنہیں وہ نئے اور زیادہ محصولات کے حوالے سے خطوط ارسال کر چکے ہیں اور اشارہ دیا کہ ان شرح کا اطلاق یکم اگست سے کئی تجارتی شراکت داروں پر ہو جائے گا۔ امریکی وزیر خزانہ، اسکاٹ بیسنٹ، نے اتوار کے روز پیش گوئی کی کہ آنے والے دنوں میں کئی بڑی اعلانات متوقع ہیں۔
امریکی ڈالر انڈیکس 96.967 پر مستحکم رہا جو منگل کو کی تقریباً ساڑھے تین سال کی کم ترین سطح 96.373 سے کچھ اوپر ہے۔
تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کی قدر کا اہم اشاریہ ہیں، پیر کو کمی کے باوجود حد درجہ مستحکم رہیں کیونکہ سخت فزیکل آئل مارکیٹ نے اگست میں توقع سے زیادہ تیل کی پیداوار بڑھانے کے اوپیک پلس کے فیصلے کے اثرات کو کم کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی ٹریفز کے ممکنہ اثرات سے اقتصادی نمو اور تیل کی طلب پر پیدا ہونے والے خدشات بھی قیمتوں پر دباؤ کم کرنے میں معاون ثابت ہوئے۔
پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اور ان کے اتحادی، جنہیں اوپیک پلس کہا جاتا ہے، نے ہفتہ کو اگست میں یومیہ 548,000 بیرل پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا، جو کہ پچھلے تین ماہ میں کی گئی 411,000 بیرل یومیہ اضافے سے زیادہ ہے۔