خام تیل کے فیوچر کنٹریکٹس میں بدھ کو معمولی ردوبدل دیکھا گیا کیونکہ مارکیٹوں نے آئندہ ماہ بڑے پیداواری ممالک سے ممکنہ اضافی سپلائی، امریکی ڈالر کی کمزور ہوتی قدر اور دنیا کے سب سے بڑے تیل استعمال کنندہ ملک امریکہ سے ملنے والے معاشی اور مارکیٹ کے ملے جلے اشاروں کو مدِنظر رکھا۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 2 سینٹ اضافے سے 67.13 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1 سینٹ کمی کے بعد 65.44 ڈالر فی بیرل رہی۔

25 جون کے بعد سے برینٹ خام تیل کی قیمت 69.05 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح اور 66.34 ڈالر کی کم ترین سطح کے درمیان ٹریڈ کر رہی ہے کیونکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے پیداواری خطے میں سپلائی میں خلل کے خدشات کم ہوگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق قیمتوں پر دباؤ کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ منگل کی شب امریکن پٹرولیم انسٹیٹیوٹ (اے پی آئی) کے جاری کردہ اعداد و شمار نے ظاہر کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں 6 لاکھ 80 ہزار بیرل کا اضافہ ہوا — حالانکہ گرمیوں کے سیزن میں عام طور پر ذخائر میں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔

فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ اینالسٹ پریانکا سچدیوا نے کہا کہ آج تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں مختلف عوامل کے باہمی اثرات کا نتیجہ ہیں — جن میں اوپیک پلس کی ممکنہ اضافی سپلائی، امریکی ذخائر کے اعداد و شمار سے ملنے والے متضاد اشارے، غیر یقینی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور میکرو اکنامک پالیسی میں ابہام شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادیوں، بشمول روس، کی جانب سے متوقع سپلائی میں اضافے کو سرمایہ کار پہلے ہی مدنظر رکھ چکے ہیں، اس لیے بظاہر یہ اقدام مارکیٹ کے لیے کوئی غیر متوقع دھچکہ نہیں بنے گا۔

گزشتہ ہفتے رائٹرز کو 4 اوپیک پلس ذرائع نے بتایا کہ یہ گروپ 6 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں آئندہ ماہ کیلئے تیل کی پیداوار میں یومیہ 4 لاکھ 11 ہزار بیرل کے اضافے کا منصوبہ رکھتا ہے — جو مئی، جون اور جولائی کے لیے طے پائے گئے اضافوں کے مساوی ہے۔

مارکیٹ پہلے ہی اوپیک پلس کے پچھلے اضافوں کے اثرات محسوس کر رہی ہے، کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک سعودی عرب نے مئی کے مقابلے میں جون میں اپنی برآمدات میں یومیہ 4 لاکھ 50 ہزار بیرل کا اضافہ کیا ہے۔ کلیپر کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق یہ اضافہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ ہے۔

پریانکا سچدیوا نے کہا کہ فی الحال جغرافیائی سیاسی کشیدگی پس منظر میں چلی گئی ہے، اس لیے اس ہفتے تیل کے فیوچر معاہدے محدود دائرے میں ہی ٹریڈ کرنے کا امکان ہے کیونکہ عالمی معاشی خدشات بدستور موجود ہیں۔ صرف امریکی ڈالر کی قدر میں کمی ہی ایسا واحد عنصر ہے جو قیمتوں میں کسی ممکنہ اضافے کو سہارا دے سکتا ہے۔

بدھ کے اوائل میں امریکی ڈالر اہم عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں 3 سال سے زائد کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ ڈالر کی کمزور قدر تیل کی قیمتوں کو سہارا دے سکتی ہے، کیونکہ اس سے دیگر کرنسیوں میں ادائیگی کرنے والے خریداروں کے لیے خریداری مزید سستی ہو جاتی ہے، جو طلب میں اضافہ کر سکتی ہے۔

آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور نے کہا کہ جمعرات کو جاری ہونے والا امریکی نان فارم پے رولز ڈیٹا اس سال کی دوسری ششماہی میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں ممکنہ کمی کے وقت اور حد کے بارے میں توقعات کو شکل دے گا۔

کم شرحِ سود معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے سکتی ہے، جس سے تیل کی طلب میں اضافہ متوقع ہے۔

سرکاری امریکی تیل کے ذخائر سے متعلق اعدادوشمار بدھ کو صبح 10:30 بجے (ایسٹرن ٹائم) انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کیے جائیں گے۔