نجکاری کمیشن آف پاکستان نے ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک کے مشہور روزویلٹ ہوٹل کی مجوزہ فروخت کیلئے تاحال کوئی بنیادی قیمت (بیس پرائس) مقرر نہیں کی اور حالیہ میڈیا رپورٹس میں 100 ملین ڈالر مالیت کے دعوے کو مسترد کردیا ۔
بیان میں کہا گیا کہ پرائیویٹائزیشن کمیشن نے 27 جون 2025 کو بعض میڈیا اداروں میں شائع ہونے والی گمراہ کن خبر کا نوٹس لیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے روزویلٹ ہوٹل کی فروخت کے لیے 100 ملین ڈالر بیس پرائس مقرر کردی ہے۔
یہ واضح کیا جاتا ہے کہ نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے لیے ابھی تک کوئی بیس پرائس طے نہیں کی گئی اور یہ قیمت صرف بولی کے وقت ہی مقرر کی جاسکتی ہے۔
کمیشن نے واضح کیا کہ مذکورہ خبر میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مشیرِ خصوصی نے صرف اُس تخمینی ابتدائی جزوی ادائیگی کا ذکر کیا تھا جو کامیاب بولی دہندہ کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے وقت، رواں مالی سال کے دوران، متوقع ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم کی وصولی کا وقت اور بیس پرائس حکومت کی منظوری سے طے پانے والے ٹرانزیکشن اسٹرکچر اور معاہدے کی حتمی شرائط پر منحصر ہوگا۔ مزید بتایا گیا کہ ٹرانزیکشن اسٹرکچر کو حتمی شکل دینے کا معاملہ آئندہ سی سی او پی (کابینہ کمیٹی برائے نجکاری) اجلاس میں زیر غور آئے گا۔
گزشتہ ماہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ حکومت روزویلٹ ہوٹل کو فروخت کرنے کے بجائے اسے چلانے کے لیے مشترکہ منصوبے (جوائنٹ وینچر) کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے، تاکہ اس اثاثے سے طویل المدتی معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔
تقریباً ایک صدی پرانے 19 منزلہ ہوٹل کو تزویراتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے خواجہ آصف نے مین ہیٹن، نیویارک میں اس کی شاندار لوکیشن کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت اس ہوٹل کی ملکیت اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فروخت سے شاید وقتی مالی خلا پُر ہوجائے لیکن مشترکہ منصوبہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ پاکستان اس قیمتی جائیداد میں اپنا حصہ برقرار رکھتے ہوئے مسلسل منافع حاصل کرتا رہے گا۔
روزویلٹ ہوٹل کو طویل عرصے سے پاکستان کا قیمتی بیرونِ ملک اثاثہ سمجھا جاتا ہے جسے فوری مالی فائدے کے لیے بیچنے کی تجاویز وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔
یہ تاریخی ہوٹل 2020 میں اُس وقت بند کردیا گیا جب اسے کورونا وبا کے باعث بھاری مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ ہوٹل 2023 میں دوبارہ فعال ہوا جب پاکستانی حکومت نے نیویارک سٹی حکومت کے ساتھ 22 کروڑ ڈالر مالیت کے تین سالہ لیز معاہدے کے تحت روزویلٹ ہوٹل کو پناہ گزینوں کے لیے عارضی رہائش گاہ کے طور پر چلانے کا فیصلہ کیا۔
فروری 2024 میں حکومت نے روزویلٹ ہوٹل کے مشترکہ منصوبے کی ترقی کے لیے جونز لینگ لاسال امریکاز انک (جے ایل ایل) کی قیادت میں قائم کنسورشیم کے ساتھ مالی مشاورتی خدمات کے معاہدے پر دستخط کیے۔
نومبر 2024 میں یہ معلوم ہوا کہ قطر نے روزویلٹ ہوٹل کے انتظام میں پاکستان کے ساتھ شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔
یہ ہوٹل 1924 میں قائم ہوا تھا اور اس کا نام امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ کے نام پر رکھا گیا۔ یہ نیویارک سٹی کے مرکزی ریلوے اسٹیشن، گرینڈ سینٹرل ٹرمینل کے قریب واقع ہے۔