انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو امریکی کرنسی کے مقابلے روپے کی قدر میں 0.02 فیصد کی بہتری دیکھی گئی۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں قدر 5 پیسے بڑھنے کے بعد روپیہ 283 روپے 67 پیسے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ بدھ کو ڈالر کے مقابلے روپیہ 283.72 پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو امریکی ڈالر یورو اور سوئس فرانک کے مقابلے میں کئی سال کی کم ترین سطح پر آ گیا، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ خودمختاری سے متعلق خدشات نے ملک کی مالیاتی پالیسی پر اعتماد کو کمزور کر دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کی جگہ کسی اور کے انتخاب اور اعلان کا منصوبہ ستمبر یا اکتوبر تک بنانے پر غور کیا ہے تاکہ ان کی پوزیشن کو کمزور کیا جاسکے۔
بدھ کو ٹرمپ نے پاول کو نقصان دہ قرار دیا کیونکہ انہوں نے سود کی شرح میں نمایاں کمی نہیں کی جبکہ فیڈ چیئرمین سینٹ کو بتا رہے تھے کہ صدر کے ٹیکس پلانز مہنگائی کے لیے خطرہ ہیں اس لیے مالیاتی پالیسی میں احتیاط ضروری ہے۔
مارکیٹس نے جولائی میں فیڈ کے آئندہ اجلاس میں سود کی شرح کم ہونے کے امکانات بڑھا دیے ہیں، جو گزشتہ ہفتے صرف 12 فیصد تھے اور اب 25 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ علاوہ ازیں، مارکیٹس اب سال کے آخر تک مجموعی طور پر 64 بیسس پوائنٹس کی کمی متوقع کر رہی ہیں، جو گزشتہ جمعہ کو تقریباً 46 بیسس پوائنٹس تھی۔
فی الحال امریکی ڈالر پر وسیع پیمانے پر دباؤ ہے کیونکہ یورو نے 0.4 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 1.1710 ڈالر کی سطح حاصل کی جو ستمبر 2021 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ 1.1692 ڈالر کی مزاحمت کی سطح ٹوٹنے سے اگلے ہدف 1.1909 ڈالر کی طرف راستہ کھل گیا ہے۔
امریکی ڈالر کی قدر 0.4 فیصد کم ہو کر 144.62 ین پر آ گئی جبکہ ڈالر انڈیکس اپنی کم ترین سطح 97.401 پر جا پہنچا، جو کہ ابتدائی 2022 کے بعد کا سب سے کم ترین سطح ہے۔
ٹرمپ کی الجھی ہوئی ٹیرف پالیسیاں بھی دوبارہ زیرِ بحث آ رہی ہیں کیونکہ جولائی 9 کی تجارتی معاہدوں کی آخری تاریخ قریب آ رہی ہے۔