نیب کی جانب سے اربوں روپے کی لوٹی گئی رقم کی بازیابی کے دعوے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے نیب کو ہدایت کی کہ تمام زیر التواء کرپشن کیسز پر فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔

وزیراعظم نے نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ سے ملاقات میں ادارے کو ہدایت کی کہ مالی دھوکا دہی کے متاثرین کو ریلیف فراہم کیا جائے اور ان کی لوٹی گئی رقوم بلا تاخیر واپس دلائی جائیں۔

یہ ملاقات نیب کی 2023-24 کی دو سالہ کارکردگی رپورٹ کے تناظر میں ہوئی، جس میں بدعنوانی سے حاصل کی گئی اربوں روپے کی رقوم کی نمایاں بازیابی کو اجاگر کیا گیا۔ چیئرمین نیب نذیر احمد بٹ نے وزیراعظم کو بتایا کہ ادارے نے گزشتہ دو برس میں نہ صرف مرکزی دفتر بلکہ علاقائی دفاتر کی سطح پر بھی کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے بڑی مالی کامیابیاں حاصل کیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کرپشن اور بددیانتی کے خاتمے کو حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے نیب کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن سے پاک پاکستان کے وژن کی تکمیل کے لیے نیب کو تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

وزیراعظم نے نیب کی اس کامیابی کو بھی سراہا جس کے تحت اربوں روپے مالیت کی سینکڑوں ایکڑ سرکاری زمین غیرقانونی قبضے سے واگزار کرائی گئی۔ نیب کی جانب سے وزیراعظم کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق ادارے نے صرف 2023-24 کے دوران 700 انکوائریاں مکمل کیں، 218 تحقیقات کا آغاز کیا اور 21 نئے کرپشن ریفرنسز دائر کیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025