کاروبار اور معیشت

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ

انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو امریکی کرنسی کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.1 فیصد کی بہتری دیکھی گئی۔ صبح 11 بجے ڈالر...
شائع June 25, 2025 اپ ڈیٹ June 25, 2025 04:29pm

انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کے کاروباری روز امریکی کرنسی کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.02 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں قدر 4 پیسے بڑھنے کے بعد روپیہ 283 روپے 77 پیسے پر بند ہوا۔

یاد رہے کہ منگل کو روپیہ283.77 پر بند ہوا تھا۔

بین الاقوامی سطح پر بدھ کو امریکی ڈالر اپنی گراوٹ کو واپس پانے میں مشکل کا سامنا رہا کیونکہ سرمایہ کار، جو طویل عرصے سے اچھی خبریں سننے کے منتظر تھے، اسرائیل اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی کی امید پر انحصار کرتے ہوئے زیادہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہوگئے۔

مارکیٹوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی قائم ہوئی جس کے باعث عالمی حصص کا ایک اشاریہ راتوں رات تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

دونوں ممالک نے اشارہ دیا کہ ان کے درمیان فضائی جنگ کم از کم فی الحال ختم ہوگئی جب کہ ٹرمپ نے انہیں اس جنگ بندی کی خلاف ورزی پر کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا ۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر سخت سرزنش کے بعد دونوں ممالک نے کم از کم فی الحال اپنی فضائی جنگ ختم کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

خبروں کے بعد سرمایہ کاروں نے ڈالر کی بھاری فروخت کی جو اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران محفوظ کرنسی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرچکے تھے، اس دوران امریکہ نے ایران کے یورینیم افزودگی کے مراکز پر بھی حملہ کیا تھا۔

بدھ کو ایشیا کی ابتدائی تجارت میں کرنسی کی حرکتیں نسبتاً کمزور رہیں تاہم یورو اپنے بلند ترین مقام کے قریب برقرار رہا جو اکتوبر 2021 کے بعد سے سب سے زیادہ تھا اور گزشتہ سیشن میں 1.1621 ڈالر کی سطح کو چھو چکا تھا۔

آسٹریلین ڈالر آخری بار 0.02 فیصد اضافے سے 0.6492 ڈالر پر ٹریڈ کررہا ہے۔

اگرچہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی نازک نظر آتی ہے لیکن فی الحال سرمایہ کار کسی بھی قسم کی وقتی راحت کا خیرمقدم کررہے ہیں۔