وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، امریکی حملوں کی مذمت، تہران سے اظہار یکجہتی
- مذاکرات اور سفارتکاری کی فوری بحالی کی ضرورت پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز نومنتخب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ایران پر حالیہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ امریکی حملوں میں وہ تنصیبات نشانہ بنی ہیں جو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای آئی) کی نگرانی اور سیکورٹی میں آتی ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی ایجنسی کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ حملے اسرائیل کی گزشتہ آٹھ روز سے جاری بلاجواز اور بلااشتعال جارحیت کے بعد کیے گئے ہیں۔
انہوں نے برادر ملک ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ بھی کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران میں انسانی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔
اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کے حقِ دفاع کو تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں فوری طور پر بات چیت اور سفارت کاری کی طرف واپسی ناگزیر ہے کیونکہ یہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی کے لیے ہر تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی مستقل حمایت کو سراہا اور وزیراعظم، حکومت، عوام اور عسکری قیادت کا ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس نازک مرحلے پر مسلم اُمہ کے اتحاد کی اہمیت پر اتفاق کیا اور آئندہ دنوں میں قریبی رابطے میں رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔