تعارف:

ماحولیاتی انصاف سے مراد تمام افراد کے ساتھ منصفانہ سلوک اور مؤثر شمولیت ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی نسل، قومیت یا معاشی حیثیت سے ہو تاکہ وہ ماحولیاتی قوانین اور پالیسیوں کی تیاری، نفاذ اور عمل درآمد میں برابر کا کردار ادا کر سکیں۔ پاکستان میں ماحولیاتی انصاف ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ یہ ملک موسمیاتی تبدیلیوں، وسیع پیمانے پر آلودگی اور ماحولیاتی تباہی کے پسماندہ طبقات پر غیر متناسب اثرات کے لحاظ سے نہایت کمزور ہے۔ یہ مضمون پاکستان میں ماحولیاتی انصاف کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیتا ہے، جن میں موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور صنعتی آلودگی شامل ہیں اور ان مسائل سے نمٹنے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور اس کے غیر متناسب اثرات

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ اس کا عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے (ورلڈ بینک، 2021)۔ ملک کو بار بار قدرتی آفات جیسے کہ سیلاب، قحط اور شدید گرمی کی لہر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن کا سب سے زیادہ اثر غریب اور دیہی آبادی پر پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا، جن میں سندھ اور بلوچستان کے دیہی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے (یو این ڈی پی، 2022)۔

ایسی آبادیوں کے پاس بحالی کے وسائل نہیں ہوتے، جس کے نتیجے میں موجودہ معاشرتی ناہمواریاں مزید گہری ہو جاتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی خوراک کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے کیونکہ بدلتے ہوئے موسمی پیٹرن زرعی پیداوار کو متاثر کرتے ہیں۔ چھوٹے کسان، جو بارش پر انحصار کرتے ہیں، خاص طور پر اس تبدیلی کی زد میں ہیں۔

ایک محقق کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور غربت کا باہمی تعلق محرومی کے ایسے چکر کو جنم دیتا ہے جسے بغیر ٹھوس اور ہدفی اقدامات کے توڑنا انتہائی مشکل ہے۔ یہ بات اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ موسمیاتی پالیسیوں میں پسماندہ طبقات کی ضروریات کو اولین ترجیح دی جائے۔

پانی کی قلت اور غیر مساوی رسائی

پاکستان میں پانی کی قلت ایک اور سنگین ماحولیاتی انصاف کا مسئلہ ہے۔ یہ دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی دستیابی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ 1951 میں فی فرد پانی کی دستیابی 5,260 مکعب میٹر تھی، جو 2021 میں گھٹ کر صرف 1,000 مکعب میٹر رہ گئی (پاکستان کونسل برائے تحقیق برائے آبی وسائل، 2021)۔ اس قلت کی بڑی وجوہات میں ناقص پانی کا انتظام، پرانی اور خستہ حال بنیادی تنصیبات، اور زیرِ زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال شامل ہیں۔

دیہی علاقوں میں پسماندہ طبقات کو صاف پانی تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہری علاقوں میں خوشحال طبقے نسبتاً بہتر فراہمی کے نظام سے مستفید ہوتے ہیں، جبکہ دیہی آبادی کو آلودہ کنوؤں اور دریاؤں جیسے غیر محفوظ ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس عدم مساوات کے نتیجے میں صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں، جن میں ہیضہ اور اسہال جیسی آبی بیماریوں کی شرح میں اضافہ بھی شامل ہے (یونیسف، 2020)۔

پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کافی نہیں، بلکہ ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں، تاکہ ہر فرد کو اس بنیادی ضرورت تک یکساں رسائی حاصل ہو سکے۔

صنعتی آلودگی اور ماحولیاتی ناانصافی

پاکستان میں صنعتی آلودگی ماحولیاتی تباہی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ٹیکسٹائل، چمڑے اور سیمنٹ سازی جیسی صنعتیں اپنا بغیر اصلاح شدہ فضلہ دریاؤں اور فضا میں خارج کرتی ہیں، جس سے نہ صرف ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ عوامی صحت پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، پنجاب میں دریائے راوی صنعتی فضلے سے شدید آلودہ ہو چکا ہے، جس سے وہ آبادی متاثر ہو رہی ہے جو پینے کے پانی اور آبپاشی کے لیے اسی دریا پر انحصار کرتی ہے۔

کم آمدنی والے طبقات اکثر صنعتی علاقوں کے آس پاس رہائش پذیر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ آلودگی کے صحت پر پڑنے والے اثرات کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اتنی سیاسی یا سماجی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ آلودگی پھیلانے والوں سے جوابدہی کا مطالبہ کر سکیں، جو ماحولیاتی اور معاشرتی ناانصافی کے باہم تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

اگرچہ صنعتی آلودگی کو قابو میں لانے کے لیے قوانین موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد کی کمزوری اور بدعنوانی کی وجہ سے بہت سی کوششیں ناکامی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے نہ صرف مؤثر قانون سازی بلکہ اس پر بھرپور عملدرآمد کی بھی اشد ضرورت ہے۔

ماحولیاتی انصاف کے فروغ کی کوششیں

اگرچہ پاکستان میں ماحولیاتی انصاف کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے لیکن اس کے فروغ کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔ حکومت نے ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام جیسے منصوبے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد ماحولیاتی نظام کی بحالی اور سبز روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے، تاکہ ماحولیاتی انصاف کو عملی شکل دی جا سکے۔

اس کے علاوہ غیر سرکاری تنظیمیں اور سول سوسائٹی ادارے بھی ماحولیاتی مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور متاثرہ کمیونٹیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے میں سرگرم ہیں۔ یہ ادارے عوامی شرکت کو فروغ دینے اور پالیسی سازی میں پسماندہ طبقات کی شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی تنظیمیں بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) ان علاقوں میں منصوبے چلا رہا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، تاکہ وہاں کی کمیونٹیز کی موسمیاتی لچک ( کلائمیٹ ریزیلیئنس) کو بہتر بنایا جا سکے۔

تاہم یہ کوششیں اس وقت تک مکمل موثر نہیں ہو سکتیں جب تک وہ سب کو شامل نہ کریں اور ماحولیاتی ناانصافی کی بنیادی وجوہات کو براہِ راست حل نہ کریں۔ پاکستان میں ماحولیاتی انصاف ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے، جس کے لیے فوری اور جامع توجہ درکار ہے۔

موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور صنعتی آلودگی کا سب سے زیادہ بوجھ پسماندہ طبقات پر پڑتا ہے، جو پہلے ہی معاشرتی اور اقتصادی ناہمواریوں کا شکار ہیں۔ یہ مسائل موجودہ عدم مساوات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ اگرچہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں کی جا رہی ہیں، مگر ان کوششوں کو مزید وسعت دینے اور زیادہ جامع بنانے کی ضرورت ہے۔ پالیسی سازوں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی تنظیموں کو مل کر ایسا فریم ورک تشکیل دینا ہوگا جس میں ماحولیاتی پالیسیوں میں سب سے کمزور اور متاثرہ طبقات کی ضروریات کو اولین ترجیح دی جائے۔ صرف اسی صورت میں پاکستان ایک منصفانہ اور پائیدار مستقبل کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025