حکومت نے اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ترقیاتی منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جو گلگت بلتستان کے فضائی رابطے کو مضبوط کرنے اور اس خطے کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

اسکردو کے ایک مقامی ریزورٹ میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں سوئس فرم انٹئیرپلین اور اس کے پاکستانی شراکت داروں پر مشتمل مشترکہ کنسلٹنسی نے اس ہوائی اڈے کی ترقی کے لیے اپنی حکمتِ عملی پیش کی ہے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی، جن میں ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ، ایڈیشنل ڈائریکٹر پروجیکٹ مانیٹرنگ، پروجیکٹ ڈائریکٹر اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ، اور اسکردو ایئرپورٹ کے مینیجر شامل تھے۔

مقامی انتظامیہ، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان بھی اجلاس میں موجود تھے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اپ گریڈیشن کے لیے ڈیزائن مشاورت سے متعلق 18 کروڑ روپے کی لاگت کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ تفصیلی ڈیزائن اور پی سی-ون کی تکمیل کے بعد ایک سال کے اندر تعمیراتی کام شروع ہونے کی توقع ہے۔

تمام اسٹیک ہولڈرز نے اس منصوبے کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی کوششوں کو سراہا کہ اسکردو کو بین الاقوامی سیاحت اور تجارت کا مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ فضائی رابطے کو مضبوط کر کے خطے کی ترقی اور اقتصادی انضمام کو فروغ دے گا۔

اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اپ گریڈ پروجیکٹ کو گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقے میں پائیدار ترقی اور عالمی رسائی کے فروغ کے لیے ایک تاریخی اور انقلاب لانے والا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔