نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار رواں ماہ 21 اور 22 جون کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے 51ویں اجلاس میں شرکت کے لیے استنبول، جمہوریہ ترکیہ کا دورہ کریں گے۔

دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، مکمل اجلاس کے دوران، وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے انتظامات کے بعد جنوبی ایشیا کی پیش رفت، اور ایران اور دیگر علاقائی ریاستوں کے خلاف اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے۔

۔

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اجلاس کے دوران فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کی دیرینہ عزم کا اعادہ کریں گے اور مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے اور غزہ کے عوام کو انسانی امداد فراہم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیں گے۔

اسحاق ڈار او آئی سی کے مقاصد اور اصولوں کے مطابق پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے تنظیم کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔

وہ عالمی برادری سے بھی مطالبہ کریں گے کہ وہ اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے اور انتہا پسندی، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی مسائل کو فوری طور پر حل کرے۔

اجلاس کے علاوہ، نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ دیگر او آئی سی رکن ممالک کے ہم منصبوں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

مزید برآں، وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل، اسحاق ڈار ”او آئی سی یوتھ فورم گرینڈ یوتھ ایوارڈ“ کی تقریب میں شرکت کریں گے جہاں یہ ایوارڈ جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو دیا جائے گا۔