ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت سے قومی صنعتی پالیسی کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے تاکہ صنعتوں کو درپیش مسائل کا پائیدار حل نکالا جا سکے اور صنعتی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔
اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملکی برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے لیے مقامی صنعتوں کی ترقی ناگزیر ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ صنعتوں کو بین الاقوامی معیار کی افرادی قوت اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ معاشی پالیسیوں کا مقصد مقامی صنعتوں کو فروغ دینا ہے۔
وزیرِ اعظم نے ٹیرف ریگولیشن پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کا باعث بنے گی۔
اجلاس کے دوران مقامی صنعتوں کی ترقی کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔ بتایا گیا کہ مؤثر صنعتی پالیسی کے ذریعے ملک کے پیداواری شعبے کو دوبارہ فعال بنایا جائے گا۔
اسی حوالے سے ایک پیش رفت میں بدھ کے روز وفاقی حکومت نے ریگولیٹری ریفارمز کانفرنس میں قومی ٹیرف پالیسی 2025–30 کا مسودہ پیش کیا۔
ریگولیٹری ریفارمز کانفرنس، جو بورڈ آف انویسٹمنٹ کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی، کا مقصد ریگولیٹری سادہ کاری اور صنعتی مسابقت کو فروغ دینا تھا۔ اس کانفرنس میں وفاقی وزراء، سفارت کاروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی جہاں پاکستان کی معاشی سمت پر ایک اسٹریٹجک مکالمہ ہوا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے تجارت رانا احسان افضل نے وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ قومی ٹیرف پالیسی 2025–30 کا مقصد ایک قابلِ پیش گوئی، شفاف اور سرمایہ کار دوست ٹیرف ڈھانچہ تشکیل دینا ہے۔
اس پالیسی میں جامع اصلاحاتی اہداف شامل ہیں، جن میں ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹیز کا آئندہ چار برسوں میں بتدریج خاتمہ، ریگولیٹری ڈیوٹیز اور پانچویں شیڈول کا پانچ سال میں مکمل خاتمہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ، 0، 5، 10 اور 15 فیصد پر مشتمل ایک سادہ اور واضح چار سطحی کسٹمز ڈیوٹی اسٹرکچر قائم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ یہ اقدامات صنعتی ترقی، کاروباری آسانی اور طویل المدتی تجارتی پالیسی میں شفافیت کو فروغ دینے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔