خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ خام تیل کی قیمتیں ایک جانب رسد کی ممکنہ قلت کے خدشات اور دوسری جانب طلب میں کمی کے اشاروں کے درمیان غیر مستحکم ہورہی ہیں۔ برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر 65 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے جس کی بنیادی وجہ رسد اور طلب کی بنیادوں کے بجائے جیوپولیٹیکل (جغرافیائی سیاسی) خطرات ہیں۔

روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ شدید تر ہو گیا ہے جس نے عالمی منڈی میں تیل پر ”رسک پریمیم“ یعنی خطرے کا عنصر بڑھا دیا ہے۔ یوکرین کے جانب سے ڈرون حملوں میں اضافے اور روسی جوابی کارروائیوں نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر روسی تیل کی برآمدات کے ممکنہ تعطل پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ تیل کی نقل و حمل کو لاحق یہ براہِ راست خطرہ عالمی رسد کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔

اس کے علاوہ، ایران کی جانب سے حالیہ امریکی جوہری معاہدے کی تجویز کو مسترد کیے جانے کی توقع بھی رسد کے خدشات کو بڑھا رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق تہران یورینیم افزودگی روکنے کے مطالبے پر آمادہ نہیں، جس کا مطلب ہے کہ ایران عالمی تیل کی منڈیوں سے بدستور الگ تھلگ رہے گا۔ امریکی پابندیوں کے تحت ایران کی خام تیل برآمدات صرف چین تک محدود ہیں۔

مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اسرائیلی فضائی حملوں سے ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جبکہ ایران کی جانب سے جوابی میزائل حملوں نے برینٹ کروڈ کی قیمت کو عارضی طور پر 75 ڈالر فی بیرل تک پہنچا دیا۔ یہ کشیدگی خلیج فارس کے اسٹریٹیجیک مقام ”آبنائے ہرمز“ کی حساسیت کو اجاگر کرتی ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 1.8 سے 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے۔ ایران کی جانب سے اس آبنا کو بند کرنے کی دھمکیاں تیل کی قیمتوں کو 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر لے جانے کا سبب بن سکتی ہیں، اگر کشیدگی شدت اختیار کرے۔

دوسری طرف، کینیڈا کے صوبے البرٹا میں جنگلات کی آگ نے تیل کی ریت کی پیداوار کو تقریباً 3.5 لاکھ بیرل یومیہ کم کر دیا ہے جو صوبے کی کل پیداوار کا تقریباً 7 فیصد بنتی ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر یہ مقدار قلیل ہے مگر دیگر سپلائی رکاوٹوں کے ساتھ مل کر اس نے مارکیٹ میں حساسیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

مزید برآں، حالیہ اوپیک پلس پلس اجلاس میں صرف 4.11 لاکھ بیرل یومیہ کی محدود پیداوار میں اضافے کی منظوری دی گئی جو مارکیٹ کی توقعات سے کہیں کم ہے۔ اس فیصلے نے سرمایہ کاروں کو مندی کے رجحانات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا جس سے قیمتوں میں فوری اضافہ ہوا۔

تاہم، سپلائی کے ان عوامل کے باوجود طلب کے اشارے ایک مختلف کہانی سناتے ہیں۔ چین، جو عالمی تیل کی طلب کا ایک اہم ستون ہے، کی کھپت میں کمزوری دیکھی جا رہی ہے۔ اپریل میں چینی خام تیل کی درآمدات گزشتہ چھ ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں جس کی وجہ صنعتی سرگرمیوں میں کمی اور ریفائنری کے بندش کے اوقات ہیں۔ معاشی محرکات بھی خاطر خواہ اثر ڈالنے میں ناکام رہے ہیں جو چینی طلب میں سست روی کی عکاسی کرتے ہیں۔

آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں کی سمت زیادہ تر جیوپولیٹیکل حالات پر منحصر دکھائی دیتی ہے، نہ کہ بنیادی معاشی عوامل پر۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی قیمتوں کو 70 سے 80 ڈالر فی بیرل کی سطح پر برقرار رکھ سکتی ہے، جبکہ شدید تنازعہ کی صورت میں یہ قیمتیں 100 ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔

اس تمام جیوپولیٹیکل ہنگامہ خیزی کے پس منظر میں، چین جیسے بڑے ممالک میں طلب کی کمزوری ایک اہم خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اگر عالمی معیشت میں مستقل بہتری نہیں آتی تو مستقبل کی طلب کے اندازوں میں کمی لانا ناگزیر ہو سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ خام تیل کی منڈی کا توازن اس وقت نازک موڑ پر ہے جہاں جیوپولیٹیکل تناؤ وقتی طور پر طلب کی کمزوری کو پسِ پشت ڈالے ہوئے ہے۔ سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے شرکاء کو مستقبل کی قیمتوں کے تعین کے لیے اسرائیل، ایران، روس اور یوکرین کے حالات کے ساتھ ساتھ بڑے اقتصادی اشاریوں پر بھی گہری نظر رکھنی ہو گی۔