ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر معمولی کم
انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کے کاروباری روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.05 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
کاروباروی روز کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں قدر 14 پیسے کم ہونے کے بعد روپیہ 283 روپے 55 پیسے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ منگل کو مقامی کرنسی 283.41 پر بند ہوئی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر بدھ کی صبح امریکی ڈالر نے بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں اپنی مضبوطی برقرار رکھی، کیونکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسی روز فیڈرل ریزرو کے سود کی شرحوں کے فیصلے کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں امریکی ڈالر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اسرائیل نے گزشتہ چھ روز سے ایران کے خلاف حملے شدت سے جاری رکھے ہیں تاکہ اس کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر روک سکے اور اسلامی جمہوریہ میں حکومت کی تبدیلی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی فوج خطے میں اپنی موجودگی بڑھا رہی ہے، جس سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ امریکہ براہِ راست مداخلت کر سکتا ہے۔ سرمایہ کار اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ یہ تنازعہ توانائی کے وسیع ذخائر، سپلائی چینز اور اہم بنیادی ڈھانچے والے علاقے میں پھیل سکتا ہے۔
اس پس منظر میں، امریکی ڈالر کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر پذیرائی ملی ہے اور اس کی قیمت جمعرات سے جاپانی ین، سوئس فرانک اور یورو کے مقابلے میں تقریباً 1 فیصد مضبوط ہوئی ہے، جس سے اس نے سال کے آغاز میں ہونے والی کمی کو کم کیا ہے۔
سال کے آغاز میں امریکی ڈالر کی قدر 8 فیصد سے زائد کم ہوگئی تھی جس کی وجہ تجارتی پالیسیوں کے باعث امریکی معیشت میں اعتماد کا کم ہونا تھا۔
امریکی ڈالر نے بدھ کو ین کے مقابلے میں 0.1 فیصد تک مضبوطی دکھائی اور ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔ آخری قیمت 145.21 ین رہی۔
ایشیا کی ابتدائی تجارت میں، سوئس فرانک ڈالر کے مقابلے میں مستحکم رہا اور 0.816 پر ٹِکا رہا جبکہ یورو 0.1 فیصد بڑھ کر 1.149 ڈالر پر پہنچ گیا۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں چھ دیگر کرنسیوں کو ٹریک کرنے والا ایک وسیع انڈیکس گزشتہ تجارتی سیشن میں 0.6 فیصد اضافے کے بعد زیادہ تر مستحکم رہا۔