پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر سی اے) نے مالی سال 2025-26 کے لیے سندھ حکومت کے بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جن کی بنیاد بڑھتے ہوئے مالی خسارے، مقامی حکومتوں کو ناکافی فنڈز کی فراہمی، اور کراچی کی ترقی کے لیے ناکافی بجٹ مختص کرنے پر رکھی گئی ہے۔
پی آر سی اے کے مطابق سندھ بجٹ میں 38.5 ارب روپے کے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال (2024) میں بجٹ متوازن تھا۔ کل آمدنی میں 17 فیصد اضافے کے ساتھ اسے 3.41 کھرب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ اخراجات میں 18.3 فیصد اضافہ متوقع ہے جو کہ 3.45 کھرب روپے تک پہنچ جائیں گے۔
پی آر سی اے کے چیئرمین محمد یونس ڈھاگہ نے ٹیکس نظام کو آسان بنانے کے حکومتی اقدامات کو سراہا، جن میں پروفیشنل ٹیکس اور انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی سمیت پانچ محصولات کا خاتمہ شامل ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ اصلاحات صوبے کی طویل المدت ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
ڈھاگہ نے مقامی حکومتوں کے بجٹ میں معمولی اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جو مالی سال 2025 میں 162.5 ارب روپے سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 165 ارب روپے تک محدود رہا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ سندھ کی مجموعی آمدنی میں مقامی حکومتوں کا حصہ کم ہو کر 5.8 فیصد رہ گیا ہے، جو گزشتہ سال 6.7 فیصد تھا، جبکہ 2012 میں یہ 16 فیصد تھا۔ اس کمی نے مالیاتی اختیارات کی منتقلی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو متاثر کیا ہے۔
اگرچہ حکومت نے کم از کم اجرت کو 37,000 روپے کرنے کی تجویز دی ہے، لیکن پی آر سی اے نے اس کے نفاذ میں مشکلات کی نشاندہی کی ہے، کیونکہ بہت سی صنعتیں اب بھی اس قانون پر عملدرآمد نہیں کر رہیں۔
ڈھاگہ نے کہا کہ بجٹ حکومتی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ وفاقی اور سندھ دونوں حکومتوں کے بجٹ اب بھی کراچی اور اس کے سنگین مسائل کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔
اگرچہ سندھ حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کو 386.3 ارب روپے سے بڑھا کر 520 ارب روپے کر دیا ہے، لیکن ضلعی سطح کے ترقیاتی فنڈز اب بھی 55 ارب روپے پر برقرار ہیں۔
کراچی کے میگا منصوبوں کے لیے مالی سال 2026 میں 8.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے 5.6 ارب روپے سے زیادہ ہیں تاہم پی آرسی اے کا کہنا ہے کہ یہ رقم شہر کے بنیادی ڈھانچے کے مسائل، جیسے پانی کی قلت، خستہ حال سڑکیں اور محدود پبلک ٹرانسپورٹ، کے حل کے لیے ناکافی ہے۔
وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں سندھ کے لیے مختص فنڈز میں بھی 4 فیصد کمی کی گئی ہے، جو 79.7 ارب روپے سے کم ہو کر 76.6 ارب روپے رہ گئے ہیں۔
پی آر سی اے نے صوبائی فنانس کمیشن (پی ایف سی) ایوارڈز کے مسلسل التوا پر بھی تنقید کی اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں جاری مسائل کی نشاندہی کی۔ ادارے کے مطابق سندھ میں اسکولوں میں داخلے کی شرح کم ہو رہی ہے جبکہ بچوں کی ویکسینیشن کی شرح صرف 61 فیصد ہے جو کہ پنجاب کی 90 فیصد شرح کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔
پی آر سی اے نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زیادہ مساوات پر مبنی اور اصلاحات پر مرکوز مالی پالیسی اختیار کرے تاکہ پائیدار ترقی یافتہ اور مضبوط مقامی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔