وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو خطے میں آئی ٹی کے مرکز کے طور پر اُبھارنے کے لیے ایک پائیدار اور جدید انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) نظام قائم کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے نوجوانوں کی آئی ٹی تربیت اور ملک میں تربیتی نظام کے قیام سے متعلق ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ اس نظام کے ذریعے مقامی کمپنیوں کو ایک بااختیار آئی ٹی ورک فورس فراہم کی جائے تاکہ وہ بین الاقوامی تقاضوں کو پورا کر سکیں اور ملک میں زرمبادلہ لا سکیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تربیتی نظام کے لیے مشاورتی خدمات سے متعلق واضح ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) وضع کیے جائیں اور اس کے قیام و نفاذ کے لیے ایک ٹائم لائن بھی مقرر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگرامز مثبت اور تعمیری ہونے چاہئیں تاکہ نوجوان بین الاقوامی سطح پر اپنی استعداد کو ثابت کر سکیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے باصلاحیت نوجوان ورک فورس کو پاکستان کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے وزارت وفاقی تعلیم، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ وزارت آئی ٹی کے ساتھ مل کر اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں آئی ٹی تربیت فراہم کریں، اس کے ساتھ ساتھ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران سمر کیمپس میں بھی آئی ٹی تربیت کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ہواوے کے باہمی تعاون سے بڑے شہروں میں مزید 80,000 طلباء کو آئی ٹی تربیت دینے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ بلوچستان اور تربت جیسے دور دراز علاقوں میں آن لائن کلاسز کے ذریعے تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔