وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے اور تدارک کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی غرض سے وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم آفس نے 13 جون 2025 کو پٹرولیم ڈویژن کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس صورتحال میں پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کی نگرانی اور ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کے لیے وزیرِاعظم نے درج ذیل اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے:I. وزیر خزانہ (کنوینر)II. وزیر پٹرولیمIII. وزیر توانائیIV. وزیرِ مملکت برائے خزانہV. گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستانVI. سیکرٹری پٹرولیمVII. سیکرٹری توانائیVIII. سیکرٹری خزانہIX. چیئرمین ایف بی آرX. اسپیشل سیکرٹری برائے وزیرِاعظمXI. رضا جعفری، ہیڈ آف ریسرچ، آئی ایم ایسXII. چیئرمین اوگراXIII. ایم ڈی پارکوXIV. محسن مانگی، چیف اسٹریٹجی آفیسر، پی ایس اوXV. ہارون رشید، سابق ایم ڈی، شیل پاکستانXVI. کامران کمال، سی ای او حبکو

کمیٹی کے مقاصد (ٹی او آرز) درج ذیل ہیں:I. موجودہ علاقائی تنازعے کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات کی آئندہ (فارورڈ/فیوچرز) قیمتوں اور سپلائی چین کی ممکنہ صورتحال کی قریبی نگرانی۔II. قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث زرِمبادلہ پر ممکنہ قلیل مدتی اور درمیانی مدتی اثرات کا تعین۔III. ایسی منصوبہ بندی تجویز کرنا (اگر ضروری ہو) جس سے تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو اور ملکی منڈی میں طلب و رسد کا توازن برقرار رہے۔IV. اگر تنازعہ طویل ہو جائے تو اس کے مالیاتی اثرات کا تفصیلی تجزیہ۔

کمیٹی ضرورت کے مطابق کسی بھی دیگر ماہر یا رکن کو بھی شامل کر سکتی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن اس کمیٹی کو سیکریٹریل معاونت فراہم کرے گا۔

یہ کمیٹی اپنی سفارشات ہفتہ وار بنیاد پر وزیرِاعظم کو پیش کرے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025