وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسمبلی میں سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے مالی سال 2025-26 میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 1.02 کھرب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صوبائی ترقیاتی پروگرام کی مالیت 520 ارب روپے ہے، جس میں ضلعی پروگرام، غیر ملکی منصوبوں کی مدد، اور وفاقی گرانٹس شامل ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کے بیان کے مطابق یہ پرعزم ترقیاتی منصوبہ صوبے بھر میں بحالی، بنیادی ڈھانچے، سماجی خدمات، اور پائیدار ترقی پر مرکوز ہے۔
سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کی اہم جھلکیاں:
صوبائی اے ڈی پی: 520 ارب روپے
ضلعی اے ڈی پی: 55 ارب روپے
غیر ملکی منصوبوں کی معاونت: 366.72 ارب روپے
وفاقی پی ایس ڈی پی: 76.28 ارب روپے
سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) اور ترقیاتی منصوبے سیلاب سے متاثرہ اسکولوں اور بنیادی سہولیات کی بحالی، تعلیم کی سہولت بڑھانے، صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے، موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق زراعت اور آبپاشی نظام کی بحالی، اور صاف پانی و صفائی کی سہولتیں فراہم کرنے پر مرکوز ہیں تاکہ عوامی صحت بہتر ہو سکے۔
اس میں سڑکوں کی رابطہ کاری اور شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا بھی شامل ہے، جس میں کراچی میں ماس ٹرانزٹ اور سیف سٹی منصوبے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، گرین انرجی اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کا نفاذ، غذائی معاونت کے ذریعے غربت کا خاتمہ، کمیونٹی بنیادی ڈھانچہ اور کم لاگت رہائشی منصوبے بھی شامل ہیں۔
جاری اور نئے منصوبے
سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 3,642 منصوبے شامل ہیں جن کے لیے 400.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 82.6 فیصد رقم 3,161 جاری منصوبوں کے لیے اور 17.4 فیصد رقم 481 نئے منصوبوں کے لیے مختص ہے۔ خاص ترقیاتی اقدامات کے لیے 119.5 ارب روپے مخصوص کیے گئے ہیں۔
شعبہ وار مختص رقوم
تعلیم: 102.8 ارب روپے
صحت: 45.4 ارب روپے
آبپاشی: 84 ارب روپے
مقامی حکومت: 132 ارب روپے
کام اور خدمات: 143 ارب روپے
توانائی (تھر کوئلہ اور قابل تجدید توانائی سمیت): 36.3 ارب روپے
زراعت، مویشی، ماہی گیری: 22.5 ارب روپے
ترقیاتی حکمتِ عملی
حکومت جاری منصوبوں کو مکمل کرنے پر زور دیتی ہے اور بجٹ کا 80 فیصد حصہ انہی منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ 20 فیصد نئی اسکیموں کے لیے مخصوص ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کا کہنا ہے کہ سیلاب کی بحالی، توانائی کے اقدامات، کراچی کے شہری منصوبے اور صاف پانی و صفائی جیسے پائیدار ترقیاتی اہداف کو خاص ترجیح دی گئی ہے۔
عملدرآمد اور نگرانی
بیان کے مطابق پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پائیدار ترقیاتی اہداف سے متعلق منصوبوں کی منظوری کو تیز کرے گا اور مالی وسائل کے اجرا کے سخت اصولوں کے ذریعے بروقت تکمیل کو یقینی بنائے گا۔
سندھ حکومت ان منصوبوں کی مدت میں ایک سال کی توسیع کا بھی ارادہ رکھتی ہے جو جون 2025 میں ختم ہو رہی ہیں تاکہ منصوبوں کا تسلسل برقرار رہے۔