اداریہ

پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس

شائع June 13, 2025 اپ ڈیٹ June 13, 2025 12:39pm

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی بجٹ کے بعد کی پریس کانفرنس، جس میں چیئرمین ایف بی آر اور سیکریٹری خزانہ بھی موجود تھے، کا آغاز آزاد میڈیا کے ایک حصے کے علامتی بائیکاٹ سے ہوا۔ یہ احتجاج اس فیصلے کے خلاف تھا جس کے تحت بجٹ تقریر کے فوراً بعد ایف بی آر چیئرمین کی روایتی تکنیکی بریفنگ منسوخ کردی گئی تھی۔

احتجاج کرنے والے صحافی اُس وقت واپس آ گئے جب وزیر اطلاعات نے معذرت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ تکنیکی بریفنگ دی جائے گی، اگرچہ اس کے لیے تاحال کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

تکنیکی بریفنگ میں یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ مجوزہ نئے یا اضافی ٹیکس اقدامات، مؤثر نفاذ، زیادہ شرحِ نمو یا مہنگائی کے ذریعے کتنا ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ جب کسی ٹیکس میں کمی کی جاتی ہے تو اس سے مجموعی محصولات میں متوقع کمی کا تخمینہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔

چونکہ گزشتہ برس ایف بی آر متعدد بار اپنے مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا—جس کی وجوہات میں متوقع شرح نمو اور مہنگائی کا کم ہونا، مجموعی طلب میں کمی، یا آئی ایم ایف پروگرام کے تحت غیر حقیقی اہداف کا تعین شامل ہے—اس لیے تکنیکی بریفنگ کے دوران جاری کردہ ڈیٹا ماہرینِ ٹیکس کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اہداف کے حصول کے امکانات کا مؤثر تجزیہ کرسکیں۔

وفاقی وزیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر بدھ کو متعدد نجی ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں تو شریک ہوئے تاہم انہوں نے صرف وہی محدود معلومات فراہم کیں جو عام طور پر تکنیکی بریفنگ میں مکمل طور پر پیش کی جاتی ہیں۔

وزیرخزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے جو ایک اہم اعدادوشمار شیئر کیا گیا وہ یہ دعویٰ تھا کہ رواں مالی سال نافذ کردہ ٹیکس اقدامات انتہائی مؤثر رہے جن کے ذریعے تقریباً 390 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا گیا۔ یہی بنیاد تھی جس پر آئی ایم ایف نے حکام کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ آئندہ مالی سال میں بھی کم از کم اتنی ہی رقم، اگر زیادہ نہیں، اسی ذریعے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔یہ اقدام مکمل حمایت کا مستحق ہے، کیونکہ اگر فنانس بل میں شامل مالی اقدامات کو سختی سے نافذ نہ کیا جائے تو ٹیکس وصولیوں میں اضافے کا سارا بوجھ انہی موجودہ ٹیکس دہندگان پر پڑتا ہے جو پہلے ہی اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں۔

تاہم اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ وزیر خزانہ (جنہوں نے ایک انٹرویو میں شاید نادانستہ طور پر اشارہ دیا کہ امیر زمینداروں کی زرعی آمدن پر نافذ کیا گیا ٹیکس — جو رواں سال جنوری سے مؤثر ہے اور یکم جولائی 2025 سے لاگو ہونا ہے — بہتر نفاذ کے تحت شمار ہوسکتا ہے حالانکہ یہ ایک صوبائی ٹیکس ہے) اور چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے جس بہتر نفاذ کا ذکر کیا گیا، وہ بالعموم بالواسطہ ٹیکسز سے متعلق ہے، جن میں سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی شامل ہیں— اور ان کا بوجھ مکمل طور پر صارفین پر منتقل کردیا جاتا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے شوگر ملز میں بہتر ٹیکس نفاذ کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے محصولات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، مگر چینی کی قیمتوں میں اضافے جیسے اہم پہلو کو نظرانداز کردیا۔ امید کی جانی چاہیے کہ ٹیکس نفاذ کے یہ ثمرات صرف سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی تک محدود نہ رہیں، بلکہ ان بااثر افراد تک بھی پہنچیں جو غیر رسمی معیشت میں سرگرم رہ کر ٹیکس نظام سے بچ نکلتے ہیں یا ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔

انہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ایف بی آر کی ٹیکس نفاذ کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے پارلیمان سے قوانین اور ترامیم کی منظوری لی جائے، اور خبردار کیا کہ اگر یہ عمل نہ ہوا تو حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ تقریباً 500 ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم چونکہ ماضی میں ایسے قوانین کو عدالتوں میں چیلنج کیا جاتا رہا ہے، اس لیے یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس عمل میں ممکنہ تاخیر کو محصولات کے اہداف طے کرتے وقت مدنظر رکھا گیا ہوگا۔

وزیر خزانہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسز میں کمی کی گئی ہے، تاکہ یہ پیغام دیا جاسکے کہ حکومت ان کے مسائل سے آگاہ ہے اور مالی گنجائش میں بہتری آنے کی صورت میں ٹیکس کی شرح میں مزید کمی کی کوشش جاری رکھے گی۔ انہوں نے مہنگائی میں کمی کو ایک اہم کامیابی کے طور پر پیش کیا، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے غربت کی موجودہ صورتحال کا ذکر نہیں کیا، جو حالیہ عالمی بینک کے نظرثانی شدہ عالمی آمدنی معیار کے مطابق 44.7 فیصد کی بلند سطح تک پہنچ چکی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے لیے غربت کی نئی حد، اسے ایک درمیانی آمدنی والا ملک تصور کرتے ہوئے، 3.65 ڈالر کے بجائے اب 4.20 ڈالر یومیہ مقرر کی گئی ہے۔

یہ درست ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے بجٹ میں 21 فیصد اضافہ بظاہر قابلِ ذکر معلوم ہوتا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے مختص 716 ارب روپے کی رقم، جو موجودہ 592 ارب روپے سے کچھ زیادہ ہے، موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں زیادہ اطمینان بخش نہیں۔ خاص طور پر جب بیروزگاری میں اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس کی درست شرح حکومت کے ادارہ شماریات نے 2020-21 کے بعد سے جاری ہی نہیں کی۔ ماہرین کے مطابق بیروزگاری کی شرح 20 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں بڑی صنعتوں کی منفی ترقی اور زرعی شعبے کی سست رفتار شامل ہیں—جو روزگار کے سب سے بڑے ذرائع سمجھے جاتے ہیں۔

وزیر خزانہ کا نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ سے متعلق بیان قابلِ تحسین ہے، خصوصاً آبادی کے تناسب پر نظرثانی کی ضرورت کی نشاندہی اہم ہے۔ تاہم، یہ بھی ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بطور وزیرخزانہ صوبوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کریں تاکہ ایک نیا ایوارڈ طے ہوسکے۔ واضح رہے کہ آخری این ایف سی ایوارڈ 2010 میں منظور ہوا تھا اور اس کے بعد سے نیا ایوارڈ طویل عرصے سے التوا کا شکار ہے۔

آخر میں، وزیر خزانہ نے اس بات کا ذکر کیا کہ ملک میں مجموعی طور پر 7,000 ٹیرف لائنز موجود ہیں، جن میں سے 4,000 پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے جبکہ 2,700 پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے۔ ان میں سے 2,000 لائنز براہ راست ان خام مال اور درمیانی مصنوعات سے متعلق ہیں جو برآمد کنندگان استعمال کرتے ہیں۔ یہ اقدام قابلِ تحسین اور مکمل حمایت کا مستحق ہے۔ اگرچہ ٹیرف میں کمی — جو کہ ترقی پذیر ممالک، بشمول پاکستان، کے لیے محصولات کا ایک اہم ذریعہ ہے — عالمی سطح پر سست روی کا شکار گلوبلائزیشن کے تناظر میں ایک کثیرالجہتی ہدف سمجھا جاتا ہے، لیکن جیسا کہ حکومت کی اقتصادی ٹیم بارہا تسلیم کرچکی ہے، پاکستان اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور آئی ایم ایف کی شرائط کو مسترد کرنے کی گنجائش نہیں رکھتا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025