آٹو موٹیو انڈسٹری نے وفاقی بجٹ 26-2025 میں تجویز کردہ اقدامات پر فوری وضاحت کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ بجلی اور ہائبرڈ گاڑیوں پر مختلف ٹیکس شرحیں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
ایم جی موٹرز پاکستان کے جنرل مینیجر سید آصف احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اہم ٹیکس فرق کی نشاندہی کی جو کئی برسوں سے موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں (ایچ ای ویز) پر اس وقت جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 8.5 فیصد ہے جبکہ مکمل طور پر الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) پر 18 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فرق کئی سالوں سے موجود ہے، جو ایچ ای ویز کو ای ویز پر غیر منصفانہ برتری فراہم کرتا ہے۔ آصف احمد نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ایچ ای ویز پر جی ایس ٹی کو 8.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر جی ایس ٹی کی شرح 18 فیصد کر دی گئی تو ہائبرڈ ٹیکنالوجی میں کی گئی بڑی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ جائے گی۔ یہ اقدام آٹو موٹیو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی (اے آئی ٹی ای پی) 26-2021 سے متصادم ہوگا، جس میں جون 2026 تک ٹیرف میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
آصف احمد نے مزید کہا کہ فنانس بل میں اس اہم مسئلے پر مکمل خاموشی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ای ویز پر جی ایس ٹی کو کم کر کے ایچ ای ویز کے مساوی 8.5 فیصد کیا جائے، نہ کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس بڑھایا جائے۔
ایم جی موٹرز کے جنرل مینیجر نے درآمدی قوانین کے ممکنہ غلط استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمد کنندگان ’گفٹ‘، ’بیگیج‘ اور ’ٹرانسفر آف ریذیڈنس‘ اسکیمز کا سہارا لے کر کمرشل بنیادوں پر گاڑیاں درآمد کر رہے ہیں اور معمول کے درآمدی طریقہ کار سے بچ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کمرشل درآمد کنندگان کو پانچ سال پرانی استعمال شدہ گاڑیاں کم ریگولیٹری ڈیوٹی کے ساتھ درآمد کرنے کی اجازت دی گئی تو اس سے مقامی گاڑی اسمبلرز کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025